یہی کمتر عطیہ ہے، اگر میں جانتا کہ اتنی قلیل مقدار ہوگی تو میں تجھے انتظار کی زحمت نہ دیتا مجھے معذور سمجھنا۔(1)(کشف المحجوب)
ایثار و سخاوت کی انوکھی مثال
حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے عہدِ خلافت میں ایک عرب امیر سعید بن عاص رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا سخاوت میں ہاتھ اس قدر کھلا تھا کہ جب کوئی حاجت مند آتا اور اس کے پاس کچھ موجود نہ ہوتا تو اسے مطلوبہ رقم کا پرونوٹ(2) لکھ دیتے، ان کے انتقال کے بعد اس قسم کی رقوم کا حساب کتاب ہوا تو پتا چلا کہ تین لاکھ بیس ہزار کی رقم واجب الادا ہے، کسی طرح اسکی اطلاع حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو بھی ہوگئ، آپ نے ازراہِ ہمدردی یہ رقم مرحوم امیر کے بیٹے عمرو بن سعید کو بھیج دی اور کہلوایا کہ: اسے تقسیم کر کے مرحوم کا بوجھ ہلکا کرو،عمرو بن سعید نے شکریہ کے ساتھ رقم امیر معاویہ کو واپس بھیج دی اور جواباً کہلوادیا: امیرالمؤمنین اگر میں یہ رقم قبول کرلوں گا تو اس سے میرے والد مرحوم کی سخاوت پرحرف آئے گا،امیر معاویہ نے دریافت کیا: پھر تمہارے والد کا یہ بوجھ کس طرح اُترے گا؟ عمرو بن سعید نے جواب دیا: امیرالمؤمنین ! میرے والد کا محل اسی رقم میں خرید لیں میں اسے لوگوں میں تقسیم کر کے والد مرحوم کا بوجھ اتار دوں گا،امیر معاویہ نے یہ محل خریدلیا اور عمرو بن سعید نے یہ رقم اسی طرح تقسیم کردی گویا اسے ملی ہی نہ تھی۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کشف المحجوب، باب فی ذکر ائمتہم من اہل البیت، ص۷۷
2…پرونوٹ (Promissory Note): اقرار نامہ جو مقروض قرض خواہ کو دیتا ہے ۔
3…تاریخ الاسلام للذھبی، ۳/۴۹۹