میں اللّٰہ کو کیا جواب دیتا
حضرت امام حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی خدمت میں ایک سائل حاضر ہوا اس نے لکھی ہوئی درخواست پیش کی آپ نے درخواست کو پڑھے بغیر بلاتا ٔمل فرمایا: تیری حاجت پوری کی جائے گی،حاضرین میں سے ایک شخص نے عرض کی: اے نواسۂ رسول اس کی درخواست کو پڑھ کر جوا ب دیا ہوتا، فرمایا: جب تک میں درخواست کو پڑھتا یہ شخص میرے سامنے کھڑا رہتا، پھر اگر اللہ تعالیٰ مجھ سے مواخذہ کرتا کہ تو نے سائل کو اتنی دیر کھڑا رکھ کر کیوں ذلیل کیا، تو میں کیا جواب دیتا۔ (1) ( احیاء العلوم)
تو میں تجھے انتظار کی زحمت نہ دیتا
حضرت امام حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی خدمت میں ایک سائل حاضر ہوا اور بولا: اے فرزند رسول ! میں ایک مفلس نادار شخص ہوں ، میں صاحبِ اہل وعیال ہوں ، مجھے اپنے پاس سے اپنے رات کے کھانے میں سے کچھ عنایت فرمائیں ، فرمایا: بیٹھ جاؤ میرا رزق ابھی راہ میں ہے،کچھ دیر بعد چند آدمی حاضر ہوئے ے بولے: حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے یہ پانچ تھیلیاں بھیجی ہیں ، ہر تھیلی میں ایک ہزار دینار ہیں ، امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ معذرت خواہ ہیں اور عرض کرتے ہیں کہ فی الحال ان کو اپنے خدام پر خرچ کریں مزید نذرانہ عنقریب ارسال کردوں گا، امام حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے پانچوں تھیلیاں سائل کو عنایت فرمادیں اور معذرت کرتے ہوئے ے فرمایا: تجھ کو بہت دیر انتظار کرنا پڑا، سرِدست
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء العلوم، کتاب ذم البخل وذم حب المال، ۳/۳۰۴