غسل کیا نماز پڑھی اور لیٹ گئ ے۔
آپ نے دیکھا کہ ایک حبشی غلام باغ کی رکھوالی کررہا ہے جب کھانے کا وقت ہوا تو اس غلام کے لیے تین روٹیاں لائی گئیں غلام ہاتھ منہ دھو کر کھانا کھانے بیٹھا ہی تھا کہ وہاں ایک کتاآیا اور غلام کے سامنے بیٹھ کر دم ہلانے لگا غلام نے ایک روٹی کتے کے آگے ڈال دی، کتا روٹی کھا کر پھر دُم ہلانے لگا غلام نے دوسری روٹی کتے کے آگے ڈال دی، کُتے نے دوسری روٹی بھی کھالی اور پھر دم ہلانے لگا تو غلام نے تیسری روٹی بھی کُتے کے آگے ڈال دی اور خود کچھ کھائے بغیر اٹھ کھڑا ہوا۔
حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ بڑے غور کے ساتھ یہ ماجرا دیکھ رہے تھے، آپ نے اس غلام کو اپنے پاس بلا کر پوچھا:تجھے روزانہ کتنی روٹیاں کھانے کو ملتی ہیں ؟ اس نے کہا: صرف تین روٹیاں ،فرمایا: تو پھر تونے یہ تینوں روٹیاں کتے کو کیوں کھلادیں ؟ اس نے کہا: یہ کتا میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اس خیا ل سے کہ یہ کہیں دور سے آیا ہوگا اور بھوکا بھی ہوگا میں نے تینوں روٹیاں اس کو کھلادیں ، آپ نے پوچھا: تو پھر آج تم کیا کھاؤ گے؟وہ بولا:آج میں بھوک پر صبر کروں گا اور اللہ کا شکر کروں گا حضرت عبداللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ یہ سن کر نہایت متا ٔثر ہوئے کہنے لگے: سُبحٰن اللہ لو گ مجھ کو سخی سمجھتے ہیں لیکن یہ شخص تو مجھ سے کہیں بڑھ کر سخی نکلا پھر آپ نے اس کے مالک سے اسے خریدلیا اور آزاد کردیاپھر باغ کو خریدا اور فرمایا:میں نے یہ باغ تیری ملکیت میں دیدیا اور خود اپنے سفر پر روانہ ہوگئے۔(1)(احیاء العلوم)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء العلوم، کتاب ذم البخل وذم حب المال، ۳/۳۱۸