Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
160 - 191
اسے کھانا کھلایا پھر فرمایا: ہم وہی ہیں    جن کو تُو نے بکری کا دودھ پلایا اور پھر اسی بکری کا گوشت کھلایا تھا آج ہم تیرے اس احسان کا بدلہ دینا چاہتے ہیں    یہ فرما کر آپ نے اسے ایک ہزار اشرفیاں  اور ایک ہزار بکریاں  عنایت کیں ، پھر آپ نے بڑھیا کو حضرت امام حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کے  پاس بھیج دیا ۔امام حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے بھی بڑھیا کو ایک ہزار اشرفیاں  اور ایک ہزار بکریاں  عنایت کیں پھرآپ نے اسے حضرت عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کے  پاس بھیجا انہوں نے فرمایا: اگر تو ان  کے  پاس پہنچنے سے پہلے میرے پاس آجاتی تو میں   تمہیں   اس قدر مال دیتا کہ وہ دونوں  صاحبان نہ دے سکتے۔ یہ فرما کرآپ نے اس بڑھیا کو دو ہزار اشرفیاں  اور دو ہزار بکریاں  عنایت کیں اس قدر داد ودَ ہِش پا کر بڑھیا بے حد مسرور  ہوئی اس  کے  خواب و خیال میں   بھی نہ تھا کہ جن مسافروں  کو اس نے ایک بکری کا گوشت کھلایا تھا وہ اس قدر عالی مقام اور سخاوت  کے  بادشاہ ہیں   ۔(1)(کیمیائے سعادت)
عبداللّٰہ بن جعفررَضِیَ اللہُ عَنْہاور حبشی غلام
	حضرت عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ عَنْہ بڑے رحم دل اور سخی تھے، یتیموں  بیواؤں  کی کفالت اور غرباء ومساکین کی مالی مدد سے دریغ نہ فرماتے تھے، آپ کی دریا دلی اور سخاوت مشہور تھی آپ ایک دفعہ کسی سفر میں   تھے اَثنائے سفر میں   کھجوروں  کا ایک باغ نظر آیا آپ تکان دور کرنے اور کچھ دیر آرام کرنے  کے  خیال سے اس باغ میں   آئے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کیمائے سعادت، فضل سخاوت، ۲/۶۴۳