Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
159 - 191
 عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر تین مرتبہ فرمایا: یااللہ ! میں   عثمان سے راضی ہوں  تو بھی اس سے راضی رہ۔(1)
سخاوت  کے  بادشاہ
	حضرت امام حسن، حضرت امام حسین اور حضرت عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ عَنْہ  حج  کے  ارادے سے مکہ مکرمہ کو روانہ  ہوئے ے یہ تینوں  اہلِ قافلہ سے آگے نکل گئے اور ان کا سامانِ سفر بھی قافلہ میں   پیچھے رہ گیا،راستہ میں   انہیں   بھوک لگی دیکھا کہ قریب ہی ایک چھوٹی سی بستی ہے تینوں  بستی میں   آئے، ایک بڑھیا ملی، فرمایا: ہمیں   پیاس لگی ہے کچھ پینے  کے  لیے ہو تو لاؤ،بڑھیا نے کہا: آپ تشریف رکھیں  میں   ابھی دودھ لاتی ہوں ،اس بڑھیا  کے  پاس ایک بکری تھی اس نے اس کا دودھ نکالا اور پیش کردیا، ان صاحبان نے دودھ پی لیا پھر فرمایا: کچھ کھانے کو ہے؟ بڑھیا نے کہا: ہاں ! اسی بکری کو ذبح کرلو، انہوں  نے بکری کو ذبح کیا بڑھیا نے گوشت پکا کر انہیں   کھلادیا اس  کے  بعد تینوں  حضرات روانہ ہوگئے، بڑھیا کا خاوند جب گھر آیا تو وہ خفاہو ا کہ تو نے بکری ایسے لوگوں  کو کھلادی جنہیں   تو پہچانتی بھی نہ تھی کہ وہ کون ہیں   ۔
	کچھ عرصہ بعد یہ دونوں  محنت مزدوری  کے  لیے مدینہ منورہ کو گئے ایک دن حضرت امام حسن رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے اس بڑھیا کو بازار میں   دیکھا تو پہچان گئ ے کہ یہ وہی بڑھیا ہے جس نے ان کی میزبانی کی تھی، آپ اس کو بڑی شفقت  کے  ساتھ اپنے مکان پر لائے 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینہ لابن عساکر، ۳۹/۵۲