دس روپیہ کے غلہ پر دو روپے،حضرت عثمان ذوالنورین رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: مجھے اس سے زیادہ ملتا ہے، آخر ہوتے ہوتے ان تاجروں نے کہا: جو مال آپ نے دس روپے میں خریدا ہے اس کی قیمت پندرہ روپے دیں گے،حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: مجھے اس سے بھی زیادہ مل رہا ہے،تاجروں نے تعجب سے کہا: وہ زیادہ دینے والا کون ہے مدینہ کے تاجر تو ہم ہی لوگ ہیں ،آپ نے فرمایا: مجھے ایک روپیہ کے مال کی دس روپے قیمت مل رہی ہے کیا تم اس سے زیادہ دے سکتے ہو؟ تاجروں نے انکار کردیا، حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: تم لوگوں کو میں گواہ کرتا ہوں کہ میں نے یہ سب غلہ اللہ کی راہ میں فقراء ِ مدینہ کو دے دیا۔ (سیرت رسول عربی)
بیررُومہ
جب سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے اور مکہ سے اَصحاب رسول بھی ہجرت کر کے آگئے تو میٹھے پانی کی حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اور صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو بڑی تکلیف تھی، صرف ایک میٹھا کنواں تھا جس کانام بیر رُومہ تھااور یہ کنواں ایک یہودی کے قبضہ میں تھاوہ اس کا پانی جس قیمت میں چاہتا تھا بیچتا تھاحضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: جو شخص اس کنویں کو خرید کر اللہ کی راہ میں وقف کردے اس کو جنت ملے گی، حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے اس کنوئیں کو خرید کر وقف کردیا۔(1)(سیرت رسول عربی)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب عثمان بن عفان رضی اللّٰہ عنہ، ۵/۳۹۳، الحدیث: ۳۷۲۳ مختصرا