جائید اد ِثمغ
مدینہ منورہ میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ اور فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ کو گزارہ کے لیے زمین کے قطعات عطا فرمایاے تھے،(یہ قطعاتِ زمین فتح خیبر کے بعد جنگ خیبر میں شریک تمام صحابہ میں تقسیم کیے گئ ے تھے) حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے حصے میں جو زمین آئی اس کا نام ثمغ تھا اس کے علاوہ یہودِ بنی حارثہ سے بھی ان کو ایک قطعہ زمین حاصل ہوا تھا اس کا نام بھی ثمغ تھا حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے زمین کے یہ دونوں قطعات اللہ کی راہ میں وقف کرددیئے ے اور اس وقف میں یہ شراءط مقرر کردیں : یہ زمین نہ فروخت ہوگی نہ ہبہ کی جائے گی، نہ وراثت میں منتقل ہوگی، جو کچھ اس سے حاصل ہوگا وہ فقراء ، ذوی القربیٰ ، غلاموں اور مہمانوں کا حق ہے۔ (1)
عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی شانِ سخاوت
خلیفۃ الرسول حضرت ابوبکر صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے زمانۂ خلافت میں قحط پڑا لوگ بہت پریشان تھے ایک روز حضرت صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: آج شام تک اللہ تمہاری پریشانی دور کردے گاچنانچہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے ایک ہزار اونٹ غلہ سے لدے ہوئے ے آئے، مدینہ منورہ کے تاجر غلہ خریدنے کے لیے حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے پاس پہنچے حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے پوچھا: یہ بتاؤکہ ملک شام سے یہ غلہ جو میرے پاس آیا ہے تم اس پر کس قدر نفع دو گے؟ تاجروں نے کہا:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب الوصایا، باب وما للوصی۔۔۔الخ ، ۲/۲۴۲، الحدیث: ۲۷۶۴