Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
155 - 191
 لیے ادھار لینے سے بھی دریغ نہ کیا تھااور اپنی بساط سے زیادہ تمہاری خدمت کی تھی لیکن تمہارے لیے اونٹوں  کی قطار مال و متاع سمیت دے دینا کوئی  بڑی بات نہیں   ہے۔ 
باقی ماندہ چادر کسے دی جائے؟
	حضرت امیر المومنین عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ  اپنے زمانہ خلافت میں   ایک دفعہ خواتین کو چادریں  تقسیم کررہے تھے آخر میں   ایک چادر بچ رہی آپ اس تردد میں   تھے کہ یہ چادر کسے دی جائے حاضرین میں   سے ایک شخص نے عرض کی:یَا اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ! اَعْطِ ھٰذَا ابْنَۃَ رَسُوْلِ اللہِ الَّتِیْ عِنْدَکَ یُرِیْدُوْنَ اُمَّ کُلْثُوْماے امیر المومنین یہ چادر آپ رسول اللہ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی بیٹی کو عنایت فرما دیں  جو آپ  کے  پاس ہے ان کی مراد حضرت اُم کلثوم بنت علی تھیں ۔(1)  (بخاری، باب الجہاد)
	واضح رہے کہ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ عَنْہ  نے اپنی خلافت  کے  زمانہ میں   حضرت علی مرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کو ان کی بیٹی اُمّ کلثوم بنت فاطمۃ الزہرا رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا  کے  لیے پیغام نکاح دیا تھاشیر خدا حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ  نے آپ کا پیغام منظور فرمایا اور                        ۱۷   ؁ہجری میں   ان کا نکاح چالیس ہزار درہم مہر پر اُم کلثوم سے کردیا تھا۔(2)
            (تاریخ کبیر از طبری ، کامل ابن اثیر، کتاب الثقات ازابن حبان، معارف ابن قتیبہ)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب الجھاد والسیر، باب حمل النساء القرب۔۔۔الخ، ۲/۲۷۶، الحدیث: ۲۸۸۱
2…تاریخ الطبری، ۳/۲۵۰ وکتاب الثقات لابن حبان ،۱/۱۹۲و المعارف لابن قتیبۃ، ص ۹۲