غریب ہے،آپ اس کے ہاں پہنچے اس غریب بدو نے اپنی بیوی سے کہا: ایک مہمان آگیا ہے اس کے کھانے کا کچھ انتظام کرو،بیوی نے جواب دیا: گھر میں سوائے جو کے تھوڑے سے آٹے کے اور کچھ نہیں ہے،شوہر بولا : کہیں سے گندم کا آٹا ادھار لے آؤ، بیوی نے پاس پڑوس سے گندم کا آٹا ادھار لینے کی کوشش کی مگر ناکام رہی، گھر آکر اپنے شوہر سے بولی: گندم کا آٹا تو کہیں سے نہیں مل سکامجبوراً جو کی تین روٹیاں پکا کر حضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے سامنے رکھ دی گئیں ،آپ نے سوچا کہ اس شخص کے تین بچے ہیں اور دو یہ میاں بیوی خود ، یہ پانچ ہوئے ے اورچھٹا میں شامل ہوگیا ہوں ، اور روٹیاں صرف تین ہیں ، یہ سوچ کر آپ نے چھٹا حصہ یعنی آدھی روٹی خود کھا کر باقی واپس کردی کہ خود کھائیں اور بچوں کو کھلائیں ، جب آپ رخصت ہونے لگے تو فرمایا: تم کسی دن مدینہ آنا اور عمر کا نام پوچھ کر مجھے ملنا۔
کچھ مدت بعد اس بدو کی بیوی نے اصرار کیا کہ مدینہ جا کر عمر(رَضِیَ اللہُ عَنْہ ) سے ملے، وہ شخص مدینہ پہنچا اورآپ سے ملا، اس وقت آپ کا تجارتی قافلہ مدینہ میں پہنچ رہا تھا بہت سے اونٹوں پر مال لدا ہوا تھا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے وہ سب اونٹ بمع مال و دولت اس بدو کو بخشدیئے ے وہ بدو اپنی خوش بختی پر نازاں و فرحاں واپس لوٹ گیاحضرت عمر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہو کر یہ ماجرا بیان کیا اور عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) آیا میں نے اس میزبان بدو کی میزبانی کا حق ادا کردیا؟ سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا :عمر! حق تو شاید اس ایک لقمہ کا بھی ادا نہ ہوا کیونکہ اس غریب نے تمہاری مہمان نوازی کے