Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
152 - 191
 ان سے فرمایا: اے ابوبکر!اپنے گھر والوں   کے  لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو؟ انہوں  نے عرض کی: یارسول اللہ  !( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میں   اپنے گھر والوں   کے  لیے اللہ  عَزَّوَجَلَّ اور اس  کے  رسول  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو چھوڑ کر آیا ہوں ۔    
پروانے کوچراغ تو بلبل کو پھُول بس	صدیق  کے  لیے ہے خدا کا رسول بس
	یہ ماجرا سن کر میں   کہہ اٹھا ابوبکر صدیق (رَضِیَ اللہُ عَنْہ ) پر میں   کسی کارِ خیر میں   ہر گز سبقت حاصل نہیں   کرسکتا۔(1)(مشکوۃ)  
حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کی شانِ سخاوت
	غزوءہ تبوک کی تیاری  کے  لیے سرکار دوعالم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اعلان فرمایا: سب لوگ مسجد نبوی میں   جمع ہوں ،مسلمان جمع ہوگئے تو آپ نے جہاد کی اہمیت اور فضیلت بیان فرمائی اور ترغیب دی کہ مسلمان جہاد کی تیاری  کے  لیے مالی حصہ لیں ، حضرت عثمانِ غنی ذوالنورین رَضِیَ اللہُ عَنْہ  نے کھڑے ہو کر عرض کی: یارسول اللہ  (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میں   سازو سامان سے لدے  ہوئے ے ایک سو اونٹ پیش خدمت کرتا ہوں ،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے خطبہ جاری رکھا،حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ  دوبارہ کھڑے  ہوئے  اور عرض کی:یارسول اللہ   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّممیں   دو سو اونٹ بمع سازو سامان پیش خدمت کرتا ہوں،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے خطبہ جاری رکھا،حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ عَنْہ  تیسری مرتبہ کھڑے  ہوئے  اور عرض کی: یارسول اللہ   صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّممیں   تین سو اونٹ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مشکاۃ،کتاب المناقب، باب مناقب ابی بکر رضی اللّٰہ عنہ، الفصل الثانی، ۲/۴۱۶، الحدیث: ۶۰۳۰