ہاں بکری کی ایک سِری ہدیۃً بھیجی اس نے سوچا میرا ہمسایہ مجھ سے زیادہ غریب ہے اس نے یہ سِری اس کے گھر بھیج دی دوسرے نے سوچا کہ میرا ہمسایہ مجھ سے زیادہ اس سِری کا مستحق ہے اس نے تیسرے کے گھربھیج دی تیسرے نے بھی یہی سوچا اور سِری چوتھے کے گھر بھیج دی اسی طرح چوتھے نے پانچویں کے گھر بھیجی پانچویں نے چھٹے کے ہاں پہنچادی حتی کہ چھٹے نے بھی ساتویں کے گھر بھیجی، تو یہ وہی شخص تھا جس نے سب سے پہلے اپنے ہمسایہ کے ہاں بھیجی تھی اس طرح پھرپھرا کر اسی کے ہاں پہنچ گئ ۔ (1) (احیاء العلوم)
اُمُّ المؤمنین رَضِیَ اللہُ عَنْہا کی شان سخاوت
ایک بار حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دو تھیلیاں چاندی سے بھری ہوئی اور ایک لاکھ اسی ہزار درہم ام المومنین حضرت عاءشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی خدمت میں بطورِ نذرانہ بھیجے، اُمّ المومنین عاءشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَانے حکم فرمایا: طباق لاؤ، خادمہ نے طباق پیش کردیا تو فرمایا: غربا و مساکین ، یتیموں اور بیواؤں کے لیے منادی کرادو کہ ابھی ابھی آئیں اور اپنا اپنا حصہ حاصل کرلیں ، یہ لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے طباق بھر بھر کر مغرب سے پہلے پہلے ساری چاندی اور درہم بانٹ کر ختم کرددیئے، مغرب ہوئی تو فرمایا: کچھ کھانے کو لاؤ کہ روزہ افطار کرلوں ،خادمہ نے روٹی اور روغن زیتون پیش خدمت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…احیاء العلوم، کتاب آداب الالفۃ والاخوۃ، ۲/۲۱۷، وکتاب ذم البخل وذم حب المال ، ۳/۳۱۸