Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
148 - 191
جذبۂ ایثار کی انتہا
	خلیفۃ الرّسولصدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ   کے  زمانۂ خلافت میں   اسلامی افواج نے ملک شام پر حملہ کیا، یرموک  کے  مقام پر رومیوں  کی ٹڈی دَل افواج مقابلہ پر آگئیں ، مسلسل تین دن کی گھمسان کی جنگ لڑنے  کے  بعد مجاہدین اسلام نے لشکر کفار کو شکست فاش دی، جنگ  کے  اختتام پر حضرت شُرَحْبِیل رَضِیَ اللہُ عَنْہ  پانی کی چھاگل لیے میدانِ جنگ میں   زخمیوں  کو پانی پلاتے پھررہے تھے آپ نے ایک زخمی کو دیکھا کہ وہ زخموں  سے چور ہے اور کوئی  دم کا مہمان ہے یہ زخمی حضرت حارث بن ہشام رَضِیَ اللہُ عَنْہ  تھے، حضرت شُرَحْبِیلرَضِیَ اللہُ عَنْہ  نے ان کو آواز دی انہیں   کچھ ہوش آیا تو حضرت شُرَحْبِیل نے کہا: لو یہ پانی پی لو، انہوں  نے پانی پینے  کے  لیے منہ کو کھولا ہی تھا کہ قریب سے ایک دوسرے زخمی کی کراہ سنائی  دی، حضرت حارث (رَضِیَ اللہُ عَنْہ ) نے اپنا منہ فوراً بند کرلیا اور اشارہ سے کہا: پہلے اس کو پانی پلاؤ، حضرت شُرَحْبِیلدوسرے زخمی  کے  پاس پہنچے تو انہوں نے انہیں   دیکھتے ہی پہچان لیا یہ زخمی حضرت عکرمہ بن ابوجہل (رَضِیَ اللہُ عَنْہ ) تھے حضرت شرحبیل رَضِیَ اللہُ عَنْہ  نے ان سے کہا: پانی پیو گے؟ انہوں نے کہا:ہاں ، معاً قریب سے کسی اور زخمی نے آہ کی، حضرت عکرمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ  نے پانی پینے سے انکار کردیا اور فرمایا: پہلے اس کو پانی پلاؤ، حضرت شرحبیل رَضِیَ اللہُ عَنْہ  جلدی سے اس تیسرے زخمی  کے  پاس آئے، یہ تیسرے زخمی حضرت سہیل بن عمرو رَضِیَ اللہُ عَنْہ  تھے، لیکن حضرت شرحبیل  کے  پہنچنے تک جاں  بحق ہوچکے  تھے،حضرت شرحبیل رَضِیَ اللہُ عَنْہ  جلدی سے پلٹے کہ حضرت عکرمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کو پانی پلادیں  ان  کے  پاس پہنچے تو دیکھا کہ ان کی روح بھی قفسِ