یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) ایک باغ بڑا اور عمدہ ہے اس میں چھ سو درخت کھجور کے ہیں دوسرا باغ چھوٹا اور کمتر ہے آپ گواہ ہوجائیں کہ میں نے بڑا اور عمدہ باغ اللہ کے لیے دے دیا، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: اِذًا یُّجْزِیْکَ اللہُ بِہِ الْجَنَّۃَ ( اللہتعالیٰ تجھے اس کے عوض جنت دے گا) ابوالد ّ حداح فرطِ مسرت سے باغ میں پہنچے، آپ کے بچے اسی بڑے باغ میں تھے پھل کھارہے تھے اور بچے کھیل رہے تھے، آپ نے اپنی بیوی سے فرمایا: تم بمع بچوں کے اسی وقت اس باغ کو چھوڑ کر دوسرے باغ میں چلی جاؤ اس لیے کہ میں نے یہ باغ اللہ کی رضا کے لیے رسول اللہ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)کی رضا کے لیے اللہ کو دے دیا، رسول اللہ کے حوالے کردیا ہے، آپ کی بیوی خوش ہو کر بولی: تجھے خیر اور فرحت کی بشارت ہو۔
؎ایں کار از تو آید و مرداں چنیں کنند
اس کے بعد اپنے بچوں کی طرف متوجہ ہوئی، ان کی جھولیوں سے پھَل نکال کر ایک طرف رکھدیئے، جو کھجوریں بچوں کے منہ میں تھیں انگلی سے نکالیں اور بچوں سے کہا: اب یہ باغ اللہ کی امانت ہے ، رسول اللہ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کی امانت ہے اور بچوں کو لے کر دوسرے باغ میں منتقل ہوگئیں ،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو جب اس کی اطلاع ملی تو فرمایا: کَمْ مِنْ عِذَقٍ رَدَاحَ وَدَارٍ فَیَاحَ لِأَبِی الدَّحْدَاح۔ نہ معلوم ابوالدحداح کے لیے کتنے بے شمار کھجور کے لمبے لمبے درخت ہیں اور کتنے وسیع اور کشادہ مکان ہیں ۔(1) (تفسیر قرطبی، جلد ۳ صفحہ ۲۳۸)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الجامع لاحکام القرآن للقرطبی، پ۲، البقرۃ، تحت الآیۃ۲۴۵، ۲/۱۸۱