اللہُ عَنْہ کے زمانۂ خلافت میں ثعلبہ زکوۃ کا مال لے کر حاضر ہوا، فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: تم اس کو واپس لے جاؤ جس چیز کورسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّماور اس کے خلیفۂ برحق صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے رد فرمادیا، عمر (رَضِیَ اللہُ عَنْہ ) کی مجال نہیں کہ اسے قبول کرلے، ثعلبہ ناکام و نامراد واپس گیا یہاں تک کہ حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے زمانۂ خلافت میں ہلاک ہوگیا۔(1) (تفسیر خازن، تفسیر مدارک، خزاءن العرفان)
ابوالدَّحدَاح کوجنت کی بشارت
جب آیت مبارکہ: مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا (2)نازل ہوئی
سنتے ہی حضرت ابوالد حداح رَضِیَ اللہُ عَنْہ خوشی کے ساتھ جھومتے ہوئے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوئےعرض کی: یارسول اللہ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کیا اللہ تعالیٰ ہم سے قرض لینا چاہتا ہے؟ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: ہاں ! اے ابوالدحداح، ابوالدحداح نے عرض کی: یارسول اللہ ! (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میرے دو باغ ہیں ان کے علاوہ میری ملکیت میں کچھ نہیں ، میں اپنے دونوں باغ اللہ تعالیٰ کیلئے قرض دیتا ہوں ،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: تو ایک باغ اللہ کیلئے دے دے اور ایک باغ اہل و عیال کے گزارہ کے لیے اپنے پاس رہنے دے، عرض کی:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیر الخازن ، ۲/۲۶۳و تفسیر مدارک ، ص۴۴۶ و خزائن العرفان، پ۱۰، التوبۃ، تحت الآیۃ:۷۵
2…ترجمۂ کنزالایمان:ہے کوئی جو اللّٰہ کو قرض حسن دے۔(پ۲، البقرۃ:۲۴۵)