وَمِنْہُمۡ مَّنْ عٰہَدَ اللہَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنۡ فَضْلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۷۵﴾فَلَمَّاۤ اٰتٰىہُمۡ مِّنۡ فَضْلِہٖ بَخِلُوۡا بِہٖ وَتَوَلَّوۡا وَّہُم مُّعْرِضُوۡنَ ﴿۷۶﴾
فَاَعْقَبَہُمْ نِفَاقًا فِیۡ قُلُوۡبِہِمْ اِلٰی یَوْمِ یَلْقَوْنَہٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللہَ مَا وَعَدُوۡہُ وَبِمَا کَانُوۡا یَکْذِبُوۡنَ ﴿۷۷﴾ اَلَمْ یَعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ سِرَّہُمْ وَنَجْوٰىہُمْ وَ اَنَّ اللہَ عَلَّامُ الْغُیُوۡبِ ﴿ۚ۷۸﴾ ) پارہ ۱۰، رکوع۱۶(
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی خدمت میں ثعلبہ کا ایک رشتہ دار حاضر تھا اس نے ثعلبہ کے پاس جا کر کہا: تیری ماں مرے، اللہ نے تیرے بارے میں یہ آیات نازل کی ہیں ،یہ سُن کر ثعلبہ زکوۃ کا مال لے کر سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے اس کی زکو ۃ کا مال لینے سے انکار کردیا، فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے قبول فرمانے کی ممانعت فرمادی،ثعلبہ اپنے سر پر خاک ڈال کر واپس ہوا،پھر صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے زمانۂ خلافت میں ثعلبہ زکوۃ کا مال لے کر حاضر ہوا، صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: جب کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے تیری زکوۃ کے مال کو رد فرمادیا تھا میں کیونکر قبول کرسکتا ہوں ،ثعلبہ ناکام واپس گیا، پھر فاروق اعظم رَضِیَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمہ کنزالایمان: اور ان میں کوئی وہ ہیں جنہوں نے اللّٰہ سے عہد کیا تھا کہ اگر ہمیں اپنے فضل سے دے گا تو ہم ضرور خیرات کریں گے اور ہم ضرور بھلے آدمی ہوجائیں گے تو جب اللّٰہ نے انہیں اپنے فضل سے دیااس میںبخل کرنے لگے اور منہ پھیر کر پلٹ گئے تو اس کے پیچھے اللّٰہ نے ان کے دلوں میں نفاق رکھ دیا اُس دن تک کہ اس سے ملیں گے بدلہ اس کا کہ انہوں نے اللّٰہ سے وعدہ جھوٹا کیا اور بدلہ اس کا کہ جھوٹ بولتے تھے کیا انہیں خبر نہیں کہ اللّٰہ ان کے دل کی چھپی اور ان کی سرگوشی کو جانتا ہے اور یہ کہ اللّٰہ سب غیبوں کا بہت جاننے والا ہے۔(پ۱۰، التوبۃ:۷۵-۷۸)