ثعلبہ ! تھوڑا مال جس کا تُو شکر ادا کرے بہتر ہے اُس سے جس کا شکر ادا نہ کرس کے ،چند یوم بعد ثعلبہ نے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی خدمت میں دوبارہ یہی درخواست کی اور کہا: اسی کی قسم جس نے آ پ کو سچا نبی بنا کر بھیجا کہ اگر وہ مجھے مال دے گا تو میں ہر حق والے کا حق ادا کروں گا،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے دعا فرمائی: یا اللہ! ثعلبہ کے مال میں برکت دے، ثعلبہ کی تھوڑی سی بکریوں میں اللہ تعالیٰ نے برکت دی اس کی بکریوں میں اضافہ ہونے لگا یہاں تک کہ مدینہ میں اس کی گنجاءش نہ ہوئی، ثعلبہ بکریوں کو لے کر جنگل میں چلا گیا بکریوں کی دیکھ بھال کی وجہ سے نمازِ پنجگانہ اور نمازِ جمعہ سے بھی غیر حاضر رہنے لگا، ایک مرتبہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے پوچھا: ثعلبہ کا کیا حال ہے؟ عرض کی گئ : یارسول اللہ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) اس کا مال بہت کثیر ہوگیا ہے اب تو جنگل میں بھی اس کے مال کی گنجاءش نہ رہی،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: ثعلبہ پر افسوس ،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے زکوۃ کی وصولی کے لیے جو عامل مقرر کیے تھے وہ زکوۃ وصول کرتے ہوئے ے ثعلبہ کے پاس بھی پہنچے انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے حکم سے زکوۃ وصول کرنے آئے ہیں ، ثعلبہ کو زکوۃ دینے میں گرانی محسوس ہوئی بولا: یہ تو ٹیکس ہوگیا تم ابھی واپس جاؤ تاکہ میں سوچ لوں ، زکوۃ وصول کرنے والے عامل جب حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکی خدمت میں حاضر ہوئے ے تو ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: ثعلبہ پر افسوس ، ثعلبہ پر افسوس،اس پر یہ آیات مبارکہ نازل ہوئیں :