بھی مہاجرین ہمارے گھروں میں بدستور رہیں گے اور ہماری جائی داد میں بھی شریک رہیں گے یہ سن کر تمام انصار بول پڑے : یارسول اللہ ! (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) ہم اس پر راضی ہیں ، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: یااللہ !تو انصار اور اَبنائے انصار پر رحم فرما، آپ نے بنو نضیر کی اراضی اور نخلستان مہاجرین کو بانٹدیں۔ (1( (زرقانی علی المواہب ، فتوح البلدان بلاذری)
۷ ہجری میں جب خیبر فتح ہوا مالِ غنیمت میں مہاجرین کو اس قدر مال و متاع حاصل ہوگیا کہ انہیں انصار کے اموال (اراضی اور نخلستان ) کی حاجت باقی نہ رہی انہوں نے انصار کے اموال جن سے مستفید ہورہے تھے سب کے سب انصار کو واپس کردیئے۔ (2( (مسلم)
مَال کا وبال
ثَعْلَبَہ بن حاطب نے سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) آپ دعا فرمائیں کہ اللہ مجھے مالدار بنادے میں وعدہ کرتا ہوں کہ اللہ نے مجھے بہت سا مال دے دیا تو میں زکوۃ ادا کرنے کے علاوہ غربا و مساکین اور یتیموں بیواؤں کی خیرات و صدقات کے ذر یعے مالی امداد کروں گا اور راہِ خدا میں کثرت سے مال خرچ کرتا رہوں گا،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: اے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شرح الزرقانی علی المواہب، حدیث بنی النضیر، ۲/۵۲۰ وفتوح البلدان، اموال بنی قریظۃ، ۱/۳۰
2…مسلم،کتاب الجہاد والسیر، باب رد المہاجرین الی الانصار،ص۹۷۴،الحدیث: ۱۷۷۱