منافقین نے ان پر طعن کی، اللہ تعالیٰ نے منافقین کی مذمت میں یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی:
اَلَّذِیۡنَ یَلْمِزُوۡنَ الْمُطَّوِّعِیۡنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیۡنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَالَّذِیۡنَ لَایَجِدُوۡنَ اِلَّا جُہۡدَہُمْ فَیَسْخَرُوۡنَ مِنْہُمْ ؕ سَخِرَ اللہُ مِنْہُمْ ۫ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۹﴾ ) پارہ ۱۰، رکوع۱۶(
ترجمہ:وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے تو ان سے ہنستے ہیں (اور صدقہ کی قلت پر عار دلاتے ہیں ) اللہ ان کی ہنسی کی سزا دے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
اِن آیات کے نازل ہونے سے جب منافقین کا نفاق کھل گیا اور مسلمانوں پر ظاہر ہوگیا تو منافقین سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہو کر معذرت کرنے لگے اور کہنے لگے کہ: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمآپ ہمارے لیے بخشش کی دعا فرمائیں ، اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
اِسْتَغْفِرْ لَہُمْ اَوْ لَاتَسْتَغْفِرْ لَہُمْ ؕ اِنۡ تَسْتَغْفِرْ لَہُمْ سَبْعِیۡنَ مَرَّۃً فَلَنۡ یَّغْفِرَ اللہُ لَہُمْ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ کَفَرُوۡا بِاللہِ وَرَسُوۡلِہٖ ؕ وَاللہُ لَایَہۡدِی الْقَوْمَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمہ کنز الایمان : وہ جو عیب لگاتے ہیں ان مسلمانوں کو کہ دل سے خیرات کرتے ہیں اور ان کو جو نہیں پاتے مگر اپنی محنت سے تو ان سے ہنستے ہیں اللّٰہ ان کی ہنسی کی سزا دے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔(پ۱۰، التوبۃ:۷۹)