Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
140 - 191
خیرات کرنے والوں  پر طعنہ زنی کرنے والے منافق
	جب آیت صدقہ نازل  ہوئی تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں   صدقہ لانے لگے جب کوئی  صحابی زیادہ مال لاتا تو منافق کہتے :  دیکھو تو سہی یہ شخص دکھلانے  کے  لیے کتنا مال لے آیا ہے، اور جب کوئی  غریب صحابی تھوڑا مال لے کر آتا تو کہتے: بھلا اس کو صدقہ دینے کی کیا ضرورت تھی یہ جو تھوڑا سا مال لے آیا ہے اللہ کو اس کی کیا پروا ہے۔
	چنانچہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللہُ عَنْہ چار ہزار درہم لائے اور عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میرا کل مال آٹھ ہزار درہم تھا چار ہزار تو یہ راہِ خدا میں   حاضر ہیں    اور چار ہزار میں   نے اپنے اہل وعیال  کے  لیے رکھ لیے ہیں   ۔
	حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: جو تم نے دیا اللہ اس میں   بھی برکت فرمایاے اور جو روک لیا اس میں   بھی برکت فرمایاے۔
	حضرت ابوعقیل انصاری رَضِیَ اللہُ عَنْہ ایک صاع کھجوریں  لے کر حاضر  ہوئے ے عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)میں   نے آج رات پانی کھینچنے کی مزدوری کی، اس کی اجرت دو صاع کھجوریں  ملیں  ایک صاع تو میں   اپنے گھر والوں   کے  لیے چھوڑ آیا اور ایک صاع راہِ خدا میں   حاضر ہے، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے خوش ہو کر اس کی قدر و منزلت دکھانے  کے  لیے فرمایا: ان کھجوروں  کو جمع شدہ مال و متاع  کے  ڈھیر  کے  اوپر ڈال دو۔