Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
14 - 191
 دینا توکل نہیں   بلکہ توکل یہ ہے کہ دل سے اللہ تعالیٰ  کے  فضل و کرم پر بھروسہ رکھے اسباب پر نہ رکھے، آدمی خلاءق پر نظر نہ رکھے اور کسی سبب پر بھی اعتماد نہ کرے، صرف مُسبِّبُ الاسباب کی ذات پر ہی اعتماد کرے۔(1)
	اللہ تعالیٰ کا ارشاد :  
وَعَلَی اللہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الۡمُتَوَ کِّلُوۡنَ ﴿۱۶۰﴾ (پ۱۳، ع ۱۴) (2)
       اور مسلمانوں  کو چاہئے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں ۔
	اللہ تعالیٰ کا ارشاد :
اِنَّ اللہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیۡنَ ﴿۱۵۹﴾ (پ۴، اٰل عمران)(3)
       بے شک جو لوگ خدا پر بھروسہ رکھتے ہیں    اللہ ان کو دوست رکھتا ہے۔
	حضرت امیرالمؤمنین علی مرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں   : توکل بدن کو عبودیت میں   ڈالنا ، قلب کو رَبوبیت  کے  ساتھ متعلق رکھنا، عطا پر شکر ، بلا پر صبر کا نام ہے۔(4) (خزاءن العرفان) 
	حضرت انس رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں    کہ ایک شخص نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم سے پوچھا: یارسول اللہ!(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میں   اپنے اُونٹ کو باندھ کر (اللہ تعالیٰ پر) توکل کروں  یا اُونٹ کوکھلا چھوڑدوں  اور توکل کروں ؟ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…کیمیائے سعادت، توحید وتوکل، ص۹۳۶
2…ترجمۂ کنزالایمان:اوربھروسہ کرنے والوں  کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے۔(پ۱۳، ابراھیم :۱۲)
3…ترجمۂ کنزالایمان:بے شک توکل والے اللہ کوپیارے ہیں   ۔(پ۴، اٰل عمران :۱۵۹)
4…خزاءن العرفان ، پ۱۳، ابراھیم ، تحت الآیۃ :۱۲