Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
13 - 191
ہے اور اَسباب و وسائل  سے کام لینے اور تدبیر کرنے کی خاطر انسان کو عقل و فہم اور تصرف کرنے کی قدرت ، قوت اور اختیار دے کر واضح کردیا ہے کہ 
لَیۡسَ لِلْاِنۡسَانِ اِلَّا مَا سَعٰی ﴿ۙ۳۹﴾ (النجم ، رکوع۶) (1)
       انسان کو وہی کچھ ملے گا جو وہ کوشش کرتا ہے۔
 	 یعنی انسان کی دنیا اور آخرت  کے  جملہ امور و معاملات میں   کامیابی یا ناکامی اس کی جدوجہد اور سعی و کوشش کا نتیجہ ہے لیکن اس  کے  باوجود یہ بھی واضح کردیا ہے کہ انسان کی تمام تر جدوجہد، سعی و کوشش اور اسباب و وسائل  اختیار کرنے سے نتاءج کا مرتب ہونا یا نہ ہونا صرف اللہ تعالیٰ کی مرضی اور مشیت پر موقوف ہے۔
	پس حقیقت کا تقاضا یہی ہے کہ انسان حکمِ الہٰی کی تعمیل میں   اسباب و ذرائع اور وسائل  کو اختیار کرے، اپنے دنیاوی اور دینی امور کو سر انجام دینے میں   حتی الوسع بھرپور جدوجہد کرے ،اپنے مقاصد  کے  حصول  کے  لیے ضرور کوشش کرے، ہر تدبیر سے کام لے لیکن اس کا اعتماد اور بھروسہ نہ تو اسباب و ذرائع پر ہو ،نہ اپنی جدوجہد یا کوشش و تدبیر پر بلکہ اس کا اعتماد اور بھروسہ صرف اللہ پرہوجو        فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیۡدُ﴿ؕ۱۶﴾ (2)اور عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ﴿۲۹﴾ (3)ہے۔
 	کیمیائے سعادت میں   امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیْ فرماتے ہیں   :اسباب کو چھوڑ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان:آدمی نہ پائے گا مگراپنی کوشش ۔(پ۲۷، النجم : ۳۹)
2…ترجمۂ کنزالایمان:ہمیشہ جو چاہے کرلینے والا۔ (پ۳۰، البروج:۱۶)
3…ترجمۂ کنزالایمان:ہرچیزپرقادرہے۔ (پ۲۸، التغابن:۱)