Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
138 - 191
 حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی خدمت میں   حاضر ہوا اس نے عرض کی: یارسول اللہ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّممیں   مفلس اور مصیبت زدہ ہوں ،وہ مزید کچھ عرض کرنا چاہتا تھا مگر شدتِ جذبات سے کچھ کہہ نہ سکا، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام چند لمحے اس  کے  سراپا کا جاءزہ لیتے رہے آپ نے دیکھا کہ ایک شخص پراگندہ مو، خستہ حال چہرے پر زندگی کی سختیوں   کے  نقوش آپ  کے  فضل و کرم کا امیدوار کھڑا ہے، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے ایک شخص کو فرمایا: جاؤ ہمارے گھر سے اس مہمان  کے  لیے کھانا لے آؤ، وہ خالی ہاتھ واپس آگیا اور اُمّ المؤمنین کا پیغام سنادیا: یارسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا میرے پاس سوا پانی  کے  اور کچھ موجود نہیں  ، سائل  یہ سن کر دم بخود رہ گیا کہ میں   جس عظیم الشان رسولِ خدا  کے  پاس اپنی تنگ دستی کا رونا رونے آیا ہوں  خود ان  کے  گھر کا یہ حال ہے۔
	حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے دوسری زوجہ مطہرہ  کے  ہاں  سے کھانا لانے کا حکم فرمایاوہاں  سے بھی یہی جواب ملا:میرے ہاں  سوا پانی  کے  اور کچھ موجود نہیں  ، اسی طرح حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام باری باری سب ازواج  کے  ہاں  سے کھانا طلب فرماتے رہے مگر سب  کے  ہاں  سے یہی جواب ملا کہ: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے سوا پانی  کے  اور کچھ موجود نہیں  ، تو سائل  نے تعجب اور حیرانی سے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو دیکھا اور اس کی آنکھوں  سے آنسو جاری ہوگئے ، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے حاضرین سے فرمایا: