ایثار و اُخوت کا بے مثال مظاہرہ
جب سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّممدینہ منورہ میں ہجرت فرما ہوئے ے اور مدینہ پاک میں مکہ سے مہاجرین آگئے تو بے روزگار ہونے کی وجہ سے ان کی گزران تنگی سے ہونے لگی، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے مہاجرین کی آباد کاری کے سلسلہ میں یہ اقدام فرمایا کہ مدینہ کے مسلمانوں (انصار) سے ان مہاجرین کا بھائی چارا کرادیا، یعنی ہر انصاری کو ایک ایک مہاجر سپرد کیا کہ بحیثیت بھائی کے اپنے مکان میں رکھے اور اس کے لیے خوردو نوش کا انتظام کرے، اسے’’مواخات‘‘ کہتے ہیں ، انصار نے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے حکم کی تعمیل اور اُخوت اسلامی کے جذبہ میں بھائی چارے کی وہ مثال قائم کر دکھائی جس کی نظیر تاریخ عالم میں ملنی محال ہے۔
ہر انصاری نے اپنے مکان، جائی داد، زمین اور مال و متاع میں اپنے مہاجر بھائی کو برابر کا شریک کرلیا اور آدھا حصہ بانٹ کر دے دیا لیکن مہاجرین نے بھی نہایت خود داری کا ثبوت دیا اور شکریہ کے ساتھ انصار بھائی وں کی جائی دادوں پر قبضہ کرلینے کے بجائے سب کچھ واپس کردیااور خود محنت مزدوری کر کے گزر اوقات کرنے لگے۔ چنانچہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے( مواخات کے تحت) حضرت عبدالرحمن بن عوف (رَضِیَ اللہُ عَنْہ) مہاجر کو حضرت سعد بن رَبیع انصاری رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا بھائی بنادیا تو حضرت سعد (رَضِیَ اللہُ عَنْہ) نے حضرت عبدالرحمن رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے کہا:انصار میں میں سب سے زیادہ مال دا رہوں میں اپنا مال بانٹ کر نصف آپ کو دیتا ہوں میری دو