پکا چکیں تو کسی نے دروازہ پر صدا دی: اے اہل بیت نبوت! میں اسیر ہوں بھوکا ہوں خدا کے لیے مجھے کچھ کھلاؤاور ساری روٹیاں اسے دے دی گئیں ۔
سب نے پانی پی پی کر رات گزاری لیکن حضرت حسن اور حضرت حسین رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا بھوک کی شدت سے نڈھال ہونے لگے، حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ رسالت مآب حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی خدمت میں پہنچے اور سارا ماجرا عرض کیا، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے ازواج مطہرات سے دریافت فرمایا تو سب کے ہاں یہی جواب ملا کہ برکت ہے، اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ تشریف لائے، وہ بھی بھوک سے بے حال ہورہے تھے کسی نے کہا: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) مقداد بن اَسود رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے پاس کھجوریں ہیں اس کے پاس آدمی بھیجا گیا لیکن وہاں بھی نہ ملیں پھر حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے فرمایا: یہ ٹوکری لو اور اس کھجور کے درخت کے پاس جاؤ اور اس سے کہو: محمد ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) نے کہا ہے اپنی کھجوروں سے ہمیں شکم سیر کردے،اللہ کے حکم سے کھجوریں گرنے لگیں ،سب لوگوں نے خوب شکم سیر ہو کر کھائیں ، باقی حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا کی خدمت میں بھیج دی گئیں کہ وہ خود کھائیں ، اور بچوں کو کھلائیں ، اس واقعہ پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی:
وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّ اَسِیْرًا (o) (1)(نزھۃ المجالس)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنز الایمان:اور کھانا کھلاتے ہیں اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور اسیر (قیدی) کو ۔ (پ۲۹، الدھر:۸)… نزہۃ المجالس، باب الکرم والفتوۃ وردالسلام، ۱/۲۸۲