Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
134 - 191
سے آپ  کے  پاس چالیس ہزار درہم جمع تھے، اس میں   سے وہ مسلمان فقراء و مساکین کی امداد اور غلام خرید کر آزاد کردینے میں   رقم خرچ کرتے رہے، جب حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے  ہمراہ ہجرت کی تو اس وقت صرف پانچ ہزار درہم آپ  کے  پاس باقی بچے تھے جو آپ نے اسلام پر قربان کرددیئے ے۔(1)
ایثار و سخاوتِ علی مرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہ 
	ایک مرتبہ حضرت علی مرتضیٰ رَضِیَ اللہُ عَنْہ  کے  گھر میں   کڑا کے  کا فاقہ گزرا، آپ نے ایک یہودی سے کچھ اُون لیا تاکہ حضرت فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ عَنْہَااسے بُنیں ، جب بُن چکیں  تو اس کی مزدوری میں  تین صاع گیہوں  ملے، پہلے دن ایک صاع گیہوں  لے کر سیّدہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَانے پیسا اور روٹیاں  پکائیں ، جب آپ حضرت علی رَضِیَ اللہُ عَنْہ اور بچوں  سمیت کھانے بیٹھیں  تو ایک مسکین نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا: اے اہلِ بیت نبوت! میں   مسکین ہوں  اللہ  کے  نام پرمجھے کچھ کھلاؤ، چنانچہ وہ چند روٹیاں  جو پکی تھیں  اُسے دے دی گئیں ۔
	دوسرے دن پھر حضرت فاطمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا نے ایک صاع گیہوں  پیسے اور روٹیاں  پکائیں جب سب کھانے بیٹھے تو پھر کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا اور کہا: اے اہلِ بیت نبوت! میں   ایک یتیم ہوں  خدا  کے  نام پر مجھے کچھ کھلاؤ، ساری روٹیاں  اسے دے دی گئیں ۔
	تیسرے دن پھر وہی ماجرا گزرا، حضرت سیدہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا گیہوں  پیس کر روٹیاں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تاریخ مدینہ دمشق لابن عساکر ،۳۰/۶۸ و موارد الظمآن لدروس الزمان، ۳/۷۰