حضرت ابوذر غفاری رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں :میں حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے ہمراہ تھا، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: اے ابوذر!میں نے عرض کی: لبیک یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)، فرمایا:آج جو لوگ زیادہ (مال و دولت) رکھتے ہیں کل قیامت کے دن وہی مفلس ہوں گے بجز ان کے جو ایسا کریں ، آپ نے اپنے ہاتھ دائیں بائیں اور سامنے پیچھے چلاتے ہوئے ے کہا اور ایسے لوگ کم ہی ہوں گے، اور پھر فرمایا:ابوذر، میں نے عرض کی: لبیک یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میرے ماں باپ آپ پر قربان، فرمایا:مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ میرے پاس اُحد جتنی دولت ہو اور میں اسے راہِ خدا میں خرچ بھی کرتا رہوں لیکن مروں تواس میں سے دو قیراط (بلا خرچ کیے ہی ) چھوڑ جاؤں ، میں نے عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کیا آپ کی مراد دو قِنْطار سے ہے؟ فرمایا: نہیں دو قیراط، پھر فرمایا: ابوذر! تم زیادہ کی طرف جاتے ہو اور میں کم کی طرف۔(1)
(بخاری ، مسلم ، ترمذی، نسائی )
ایثار و سخاوتِ صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ عَنْہ
حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ عَنْہ اسلام لائے تو اس وقت تجارتی نفع کی آمدنی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب الرقاق ، باب قول النبی: ما احب ان لی مثل احد ذھبا ، ۴/۲۳۱، الحدیث: ۶۴۴۴ مختصرًا ومسلم ، کتاب الزکاۃ، باب تغلیظ عقوبۃ من لا یؤدی الزکاۃ، ص۴۹۵، الحدیث: ۹۹۰، مختصرًا و احیاء العلوم، کتاب ذم البخل وذم حب المال، ۳/۳۲۷