Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
131 - 191
 وَالسَّلام نے فرمایا:یہ اونٹ حَاکم فدک نے بھیجے ہیں    غلہ ، کپڑے اور جو بھی سامان آیا ہے سب تیری تحویل میں   ہے سب چیزیں  بیچ کر قرض ادا کردو،میں   نے حکم کی تعمیل کردی اور پھر مسجد میں   آیا، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے ادائیگی قرض کا حال پوچھا تو میں  نے عرض کی: یارسول اللہ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسب قرضہ ادا ہوگیا کچھ باقی نہیں   رہا،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: کچھ سامان بچ بھی رہا؟میں   نے عرض کی: ہاں  یارسول اللہ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکچھ بچ بھی گیا ہے، فرمایا: مجھے اس سے سَبُکْدَوش کرو، جب تک یہ ٹھکانے نہیں   لگے گا میں   گھر نہیں   جاؤں  گا۔
	نماز عشاء  کے  بعد مجھے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے بلایا باقی ماندہ سامان  کے  متعلق دریافت فرمایا میں   نے عرض کی وہ میرے پاس ہے کوئی  سائل  ہی نہیں   ملا حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے ساری رات مسجد میں   گزار دی گھر نہ گئے اور دوسرے دن بعد نماز عشاء حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے پھر مجھے بلایا میں   نے عرض کی: یارسول اللہ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اللہ نے آپ کو سَبُکْدَوش کردیا۔یہ سن کر حضور  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے تکبیر کہی اور اللہ کا شکر ادا کیا کیونکہ آپ کوڈر تھا کہ موت آجائے اور وہ سامان میرے پاس موجود ہو، اس کے  بعد حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّماپنے دولت خانہ میں   تشریف لے گئے۔(1)(ابوداؤد)
 صدقہ دو (خیرات کرو)
	سرکار دوعالم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے اپنے اصحاب سے فرمایا: صدقہ دو،ایک شخص 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابوداود، کتاب الخراج والفیء والامارۃ، باب فی الامام یقبل ہدایا المشرکین، ۳/۲۳۰، الحدیث: ۳۰۵۵