Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
130 - 191
  کے  ہمراہ آرہا ہے وہ مجھے دیکھ کربولا: اوحبشی!، میں   نے کہا:میں   حاضر ہوں ،اس نے ترش روئی   کے  ساتھ میری نسبت کچھ سخت الفاظ کہے اور بولا: کچھ معلوم ہے وعدے میں   کتنے دن باقی ہیں   ؟ میں   نے کہا: ہاں  ! وعدے کا دن قریب آرہا ہے،وہ بولا: صرف چار دن باقی ہیں، اگر اس مدت میں   تو نے قرض ادا نہ کیا تو تجھ کو غلام بنا کربکریاں  چرواؤں  گا جیسے کہ تُو پہلے چرایا کرتا تھا۔
	یہ سن کر میں   متفکرہوا، جب حضور  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنماز عشاء  کے  بعد حجرہ ٔمبارک میں   تشریف لے گئ ے میں   وہیں   حاضر خدمت ہوا عرض کی:یارسول اللہ ! ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میرے ماں  باپ آپ پر قربان! جس مُشرک تاجر سے میں   قرض لیا کرتا تھا اس نے مجھ سے اس طرح کہا ہے ،جبکہ آپ  کے  پاس یا میرے پاس اس وقت ادائی گی قرض  کے  لیے کچھ موجود نہیں  ، وہ مجھ کو رسوا کرے گا، آپ اجازت دیں  تو میں   بھاگ کر کسی مسلمان قبیلے میں   جارہوں  جب اللہ تعالیٰ کچھ سامان کر دے گا توواپس آجاؤں  گا، میں   حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامسے رخصت ہو کر اپنے گھر آیا تلوار ڈھال تھیلا اور جوتا اپنے سرہانے رکھ لیا، صبح کاذب  کے  وقت میں   چلنے ہی لگا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں  کہ ایک آدمی دوڑا چلا آتا ہے اس نے میرے پاس پہنچ کر کہا:رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمتجھ کو یاد فرمارہے ہیں   ، میں   وہاں  پہنچا تو دیکھا کہ چار اونٹ لدے  ہوئے ے بیٹھے ہیں   ، میں   اجازت لے کر حضور  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی خدمت میں   حاضر ہوا، حضور  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: مبارک ہو اللہ تعالیٰ نے قرض ادا کرنے کا سامان کردیا تم نے چار اونٹ بیٹھے دیکھے ہوں  گے،میں   نے عرض کی: ہاں ! یارسول اللہ! ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ