مال، مگر غور کر کہ تیرے لیے اس کے سوا کیا ہے کہ تو کھائے اور نیست و نابود کردے، پہنے اور اِسے ردی کر ڈالے، صدقہ دے(خیرات کر)تاکہ ہمیشہ کیلئے قائم رہے۔ (1) (مسلم)
حضرت بلال رَضِیَ اللہُ عَنْہ اور مشرک تاجر
ایک مرتبہ حضرت عبداللہ ہوازَنی رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے حضرت بلال رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے پوچھا:رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے خزانہ کی کیا کیفیت تھی؟ حضرت بلال رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے فرمایا: میں حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی بعثت سے وفات تک ان کے خزانہ کا انچارج رہا ہوں ، آپ کے مالی امور میری تحویل میں تھے، جب کوئی حاجت مند آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا آپ مجھ سے موجودات کے متعلق دریافت فرماتے، جو کچھ موجود ہوتامیں عرض کردیتا، پھر حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام فرماتے: اس سائل کو اس قدر دے دو، او رمیں حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے حکم کی تعمیل کردیتا اگر کچھ موجود نہ ہوتااور کوئی ننگا بھوکا مسلمان آپ کے پاس آجاتا تو بھی حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام فرماتے: اسے اتنی رقم یا راشن یا کپڑا دیا جائے تو میں کسی سے قرض لے کر اس کی تعمیل کردیتا تھا۔
ایک روز ایک مشرک تاجر نے مجھ سے کہا: اے بلال ! میرے پاس گنجاءش ہے تم میرے سوا کسی دوسرے سے قرض نہ لیا کرو، اس کے بعد میں اسی سے قرض لیا کرتا، ایک دن میں وضو کر کے اذان دینے لگا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی تاجر کچھ دوسرے مشرک تاجروں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب الزہد والرقائق، ص۱۵۸۲، الحدیث: ۲۹۵۸،۲۹۵۹