توکّل، قَناعت ، اِستغناء
قال اللہ عَزَّوَجَلَّ : وَ لِلہِ غَیۡبُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ وَ اِلَیۡہِ یُرْجَعُ الۡاَمْرُ کُلُّہٗ فَاعْبُدْہُ وَتَوَکَّلْ عَلَیۡہِ ؕ وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوۡنَ﴿۱۲۳﴾٪ ( 1) (پ۱۲، رکوع۱۰)
اللہتعالیٰ کا ارشاد:اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے غیب(اس سے کچھ چھپ نہیں سکتا) اور اسی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے، تو اس کی بندگی کرواور اس پر بھروسہ رکھو اور تمہارا رب تمہارے کاموں سے غافل نہیں ۔
توکل کے لغوی معنی ہیں اعتماد اور بھروسہ کرنا، اپنے عجز کا اقرار کرنا، اپنے کام کو کسی کے حوالے کرنا، کسی کو وکیل بنانا۔
توکل کے شرعی معنی ہیں صرف اللہ تعالیٰ پر اعتماد اور بھروسہ کرنا اور کاموں کو اس کے سپرد کردینا۔ (2)
دنیا عالم اَسباب ہے، اللہ تعالیٰ نے دنیا او ردین کے جملہ اُمور کو اَسباب و وسائل سے متعلق اور وابستہ کیا ہے او ر اسی نے انسان کو اَسباب و وسائل اختیار کرنے کا حکم فرمایا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ترجمۂ کنزالایمان: اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے غیب اور اسی کی طرف سب کاموں کی ر جوع ہے تو اس کی بندگی کرو اور اس پر بھروسہ رکھو اور تمہارا رب تمہارے کاموں سے غافل نہیں ۔(پ۱۲، ھود : ۱۲۳)
2…احیاء العلوم، کتاب التوحید والتوکل، بیان حال التوکل، ج ۴، ص۳۲۰ ماخوذًا وخزاءن العرفان، پ ۴، اٰلِ عمران ، تحت الآیۃ: ۱۵۹و اردو لغت، ج۵، ص۷۱۵