اس نے عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) میں نے یہ چادر اپنے ہاتھ سے بُنی ہے، میں آپ کے پہننے کے لیے لائی ہوں ، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو ضرورت تھی اس لیے آپ نے وہ چادر لے لی،پھر حضور وہی چادر بطورِ تہبند باندھے ہمارے پاس تشریف لائے، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے ایک نے عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) کیا ہی اچھی چادر ہے یہ مجھے پہنادیجئے۔
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: ہاں ، کچھ دیر بعد حضور مجلس سے تشریف لے گئ ے پھر واپس آئے اور وہ چادر لپیٹ کر اُس صحابی کو عنایت فرمادی، حاضرین نے اس شخص سے کہا: تو نے اچھا نہ کیاکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے اس چادر کا سوال کیا حالانکہ تجھے معلوم ہے کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کسی سائل کا سوال رد نہیں فرماتے وہ بولا: اللہ کی قسم ! میں نے صرف اس لیے سوال کیا کہ جس دن میں مر جاؤں یہی چادر میرا کفن بنے(اور حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی برکت سے عذابِ قبر سے محفوظ رہ سکوں اور اللہ کی رحمت سے حصہ پاؤں )۔ حضرت سہل رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ (واقعی) وہ چادر اس کا کفن ہی بنی۔(1) (بخاری)
دو جہاں کی بہتریاں نہیں کہ امانی ٔدل وجاں نہیں
کہو کیا ہے وہ جو یہاں نہیں مگر اک’’ نہیں ‘‘ کہ وہ ہاں نہیں
سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: آدمی ہمیشہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میرا مال میرا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب الجنائز، ۱/۴۳۱، الحدیث: ۱۲۷۷ وکتاب البیوع، باب ذکر النساج، ۲/۱۷، الحدیث: ۲۰۹۳