تو بہت تھوڑی قیمت ہے،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے فرمایا: اچھا دو درہم لے لو، میں نے عر ض کی: یہ بھی کم ہے یہاں تک کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمبڑھاتے بڑھاتے ایک اوقیہ تک پہنچے، میں نے عرض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّماس قیمت پر آپ راضی ہیں ؟فرمایا:ہاں میں راضی ہوں ،میں نے عرض کی:توبس یہ اونٹ آپ کا ہوچکا، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا:یہ اونٹ میں نے خریدلیا،جب ہم مدینہ پہنچ گئ ے تو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اپنے مکان پر تشریف لے گئ ے اور میں اپنے گھر آگیا، اگلی صبح میں وہ اونٹ لے کر گھر سے روانہ ہوا اونٹ کو مسجد نبوی کے دروازے پر باندھ کر میں حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی خدمت میں آیا اور بیٹھ گیا،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام جب مسجد سے باہر تشریف لائے تو دریافت فرمایا: یہ اونٹ کیسا ہے؟لوگوں نے عرض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمیہ اونٹ جابر لے کر آیا ہے،فرمایا:جابر کہاں ہے؟ جب میں حاضر ہوا تو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا:اے میرے بھائی کے بیٹے اونٹ کو لے جاؤ یہ تیرا ہی ہے اور پھر حضرت بلال رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے فرمایا: جابر کو لیجاکر اسے ایک اوقیہ دے دو، حضرت بلال نے مجھے ایک اوقیہ سے بھی کچھ زیادہ دے دیا،اس دن سے میرے مال میں اسقدر برکت ہوئی کہ میں بہت بڑا مالدار بن گیا۔(1)(سیرتِ ابن ہشام)
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی چادر میرا کفن بنے
حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت ایک چادر لے کر آئی ،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سیرت ابن ہشام، غزوۃ ذات الرقاع فی سنۃ اربع، ص۳۸۴