Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
126 - 191
عطائے رسولِ اکرم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم
	حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں   :میں   رسول اللہ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے  ہمراہ غزوءہ ’’ذَاتُ الرِّقَاع ‘‘میں   گیاجب واپسی  ہوئی تو چونکہ میرا اونٹ نہایت کمزور اور لاغر تھا اس لیے میں   بار بار لشکر  کے  پیچھے رہ جاتا تھا،ایک مقام پر حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے مجھ سے فرمایا:اے جابر! کیا بات ہے جو تو پیچھے رہ جاتا ہے؟ میں   نے عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)میرا اونٹ لاغر ہے، وہ لشکر کی سواریوں   کے  برابر چل نہیں   سکتا،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا:اس کو بٹھا، میں   نے اونٹ کو بٹھایا تو فرمایا: کسی درخت سے ایک لکڑی توڑ کر مجھے دے دے،میں   نے ایک لکڑی حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی خدمت میں   پیش کردی فرمایا: اب تو اُونٹ پرسوارہوجا،میں   سوار ہوگیا حضور  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے وہ لکڑی اونٹ کو تین چار مرتبہ ماری پھر وہ اونٹ اس قدر تیز رفتار ہوگیا کہ مجاہدین کی اچھی اچھی سانڈنیوں  سے بھی آگے نکل جاتا تھا، میں   اونٹ کی رفتار کو کم کرتے  ہوئے ے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام  کے  برابر چلتا رہا اور حضور  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے باتیں  کرتا رہا اچانک حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: اے جابر ! تم یہ اونٹ میرے ہاتھ فروخت کرتے ہو؟میں   نے عرض کی: یارسول اللہ !(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ) میں   یہ اونٹ بلامعاوضہ آپ کی نذر کرتا ہوں ،فرمایا: یوں  نہیں  ، فروخت کرو، میں   نے عرض کی: یارسول اللہ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) تو پھر اس کی قیمت بھی آپ ہی بتائیں ، فرمایا:ایک درہم میں   لیتا ہوں ،میں   نے عرض کی: یارسول اللہ ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) یہ