ہر نیک کام صدقہ ہے
سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد :آدمی کا ہر (نیک) سلوک صدقہ (خیرات) میں داخل ہے، آدمی جو کچھ اپنی جان پر اور اپنے اہل وعیال پر خرچ کرتا ہے وہ بھی اس کے حق میں صدقہ ہی لکھا جاتاہے آدمی اپنی عزت بچانے کی خاطر جو خرچ کرے وہ بھی صدقہ ہے ۔‘‘اور انسان کسی طرح کا (جاءز)خرچ کرے اللہ پر اس کا اجر دینا ضروری ہے۔(1)(بخاری، مسلم، بیہقی درشعب)
ایک درہم لاکھ درہم سے افضل
سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: ایک درہم ایسا ہوتا ہے جو ایک لاکھ درہم سے افضل ہوتا ہے،صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی:یہ کب ہوتا ہے یارسول اللہ؟ (رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے) فرمایا: ایک شخص کے پاس دو درہم ہوں اور وہ ایک درہم اللہ کی راہ میں دے دے تو یہ ایک درہم اس لاکھ درہم سے زیادہ افضل ہے کہ جو شخص بہت مال رکھتا ہو اور اس میں سے ایک لاکھ درہم دے دے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…اللّٰہعَزَّوَجَلَّ پر کسی بھی نیک عمل کا اجر دینا واجب نہیں ، ہاں اس نے اپنے کرم سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ نیک عمل پر ثواب عطا فرمائے گا ۔(ماخوذ ازبہارِ شریعت،۱/۲۵)لہٰذا یہاں بھی یہی مراد ہے کہ اِس خرچ کرنے کا ثواب اُس کے ذمۂ کرم پر ہے ۔ علمیہ… بخاری،کتاب الادب، باب کل معروف صدقۃ ،۴/ ۱۰۵، الحدیث: ۶۰۲۱وشعب الایمان للبیہقی، باب فی الزہد و قصر الامل،۷/۳۹۲، الحدیث۱۰۷۱۳
2…السنن الکبری للنسائی،کتاب الزکاۃ،صدقۃ جہد المقل،۲/۳۲، الحدیث: ۲۳۰۷