اٹھانے کو نہیں کہتا،حضرت عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہ بولے : آپ خود اٹھا کر مجھ پر رکھ دیں ، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا : میں اسے نہیں اٹھاتا،اس پر حضرت عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے اس میں سے کچھ گرادیا پھر اسے اپنے کندھے پر اٹھالیا اور روانہ ہوئے ے، حضور اقدس صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمان کی طرف دیکھتے رہے یہاں تک کہ وہ غاءب ہوگئے اور حضوران کی طمع پر تعجب فرماتے تھے، الغرض حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے وہ سارا مال اسی وقت لوگوں کو بانٹ کر دے دیا، چنانچہ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام وہاں سے اٹھے تو ایک بھی درہم باقی نہ رہا تھا۔(1)( بخاری)
سوال سے بچنے کی ترغیب
حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں : انصار کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمسے سوال کیا آپ نے انہیں عطا فرمایا انہوں نے پھر مانگا تو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے انہیں پھرعطا فرمایا یہاں تک کہ جو کچھ موجود تھاتقسیم ہو کر ختم ہوگیا اس کے بعد حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا:جو کچھ میرے پاس موجود ہو میں اسے تم سے بچا کر نہیں رکھتا۔جو شخص سوال سے بچنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اسے بچا لیتا ہے، جو غناطلب کرے اللہ تعالیٰ اسے غنی کردیتاہے اورجو صبر چاہے اللہ تعالیٰ اسے صبر عطا فرماتا ہے اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں میں صبر سے بہتر اور وسعت والی کوئی چیز
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الصلاۃ، ۱/۱۶۲، الحدیث: ۴۲۱، وکتاب الجزیۃ، ۲/۳۶۵، الحدیث: ۳۱۶۵ و عمدۃ القاری، کتاب الصلاۃ ، ۳/۴۰۹، تحت الحدیث:۴۲۱