و خوشحالی پائی گئ فرمایا اسی کا امر فرمایا گیا ہے ۔ (1)
شانِ عطائے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم
عَلابن حضرمی رَضِیَ اللہُ عَنْہنے بحرین کے خراج میں ایک لاکھ درہم سرکار دوعالم کی خدمت میں بھیجے ، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا : اس کو مسجد میں ڈال دو۔ جب حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نماز سے فارغ ہوئے ے تو اس مال کے پاس بیٹھ گئ ے اور تقسیم فرمانے لگے آپ کے چچا حضرت عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہ آپ کے پاس آئے اور عرض کی : یارسول اللہ! مجھے اس مال میں سے دیجئے کیونکہ جنگِ بدر کے دن میں نے فدیہ دے کر اپنے آپ کو اور عقیل بن ابی طالب کو آزاد کرایا تھا،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا : (جس قدر چاہتے ہو اپنے ہاتھ سے) لے لو،حضرتِ عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے دونوں ہاتھوں سے اپنے کپڑے میں ( بہت سا مال) ڈال لیا، پھر اٹھانے لگے تو نہ اٹھا س کے ، عرض کی : یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمآپ کسی سے فرمادیں کہ اٹھا کر مجھ پر رکھ دے، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا : میں کسی سے اٹھانے کو نہیں کہتا،حضرت عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہنے عرض کی : آپ خود اٹھا کر مجھ پر رکھ دیں ،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامنے فرمایا: میں اسے نہیں اٹھاتا،اس پر حضرت عباس رَضِیَ اللہُ عَنْہ نے اس میں سے کچھ گرادیا پھر اٹھانے لگے تو تب بھی نہ اٹھا س کے ، عرض کی : یارسول اللہ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم)آپ کسی سے فرمادیں کہ اٹھا کر مجھ پر رکھ دے،حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا : میں کسی سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الشمائل المحمدیۃ للترمذی،باب ماجاء فی خلق رسول اللّٰہ،ص۲۰۱، الحدیث:۳۳۸