Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
119 - 191
سرکار دو عالم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکی شانِ جودو سخاوت
	جودِ حقیقی یہ ہے کہ بغیر غرض و عوض  کے  ہو اور یہ صفت ہے حق سبحانہ کی جس نے بغیر کسی غرض وعوض  کے  تمام ظاہری وباطنی نعمتیں  اور تمام حسی و عقلی کمالات خلاءق پر افاضہ کئے ہیں   ۔
	اللہ تعالیٰ  کے  بعد’’ اَجْوَدُ الْاَجْوَدِیْن‘‘اس  کے  حبیب پاک محمد رسول اللہ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمہیں  ،آپ سے کبھی کسی چیز کا سوال نہ کیا گیا کہ اس  کے  مقابل آپ نے ’’ لا  ‘‘ (نہیں  ) فرمایا ہو۔(1) (بخاری)
	یعنی آپ کسی  کے  سوال کو رد نہ فرماتے اگر موجود ہوتا تو عطا فرماتے اور اگر پاس نہ ہوتا تو قرض لے کر دیتے یا وعدءہ عطا فرماتے۔
	 ایک دفعہ ایک سائل  آپ کی خدمت میں   حاضر ہواحضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: میرے پاس کوئی  چیز نہیں   مگریہ کہ تو مجھ پر قرض کرے جب ہمارے پاس کچھ آجائے گاہم اسے ادا کردیں  گے،حضرت عمر فاروق َرضِیَ اللہُ عَنْہ نے عرض کی: یارسول اللہ  (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم ) خدا نے آپ کو اس چیز کی تکلیف نہیں   دی جو آپ کی قدرت میں   نہیں  فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی یہ بات حضور اکرم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو پسند نہ آئی ، انصار میں   سے ایک شخص بولا:  (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم )عطاکیجئے اور عرش  کے  مالک سے تقلیل کا خوف نہ کیجئے،یہ سن کر آپ نے تبسم فرمایا اور آپ  کے  روئے مبارک پر تازگی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فیض القدیر، تحت الحدیث: ۲۸۶۰، ۳/۱۳۴اشارۃً