Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
117 - 191
	دین بھی او ردنیا بھی ، یہ دونوں  تجھے کیونکرحاصل ہوسکتی ہیں   ، اے خود پرست یہ بے ہودگیاں  نہ کر۔
ہم خدا خواہی وہم دنیائے دُوں 	ایں  خیال ست و محال ست و جنوں
					                      		(مولانا روم رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
	تو اللہ کا وصال بھی چاہتا ہے اور کمینی دنیا کا طلب گار بھی ہے، یہ تیرا محض خیال ہے، یہ امر محال ہے اور پاگل پن ہے۔
تین باتیں  قسمیہ کہہ سکتا ہوں 
	سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: تین باتیں  ایسی ہیں    کہ میں   بہ قسم کہہ سکتا ہوں 
	اَوّل: یہ کہ صدقہ (خیرات کرنے) سے مال کم نہیں   ہوتا۔صدقہ دینا (خیرات کرتے رہنا) چاہیے۔ 
	دوم: یہ کہ اگر کوئی  شخص اپنا حق اللہ کے  واسطے چھوڑ دے (معاف کردے) تو اللہتعالیٰ اس  کے  باعث قیامت  کے  دن اس کی عزت بڑھا دے گا۔
	سوم: یہ کہ جو شخص اپنے اوپر سوال کا دروازہ کھولتا ہے (لوگوں  سے مانگنا شروع کر دیتا ہے) اللہتعالیٰ اس پر محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔(1)
زکوۃِ مال بدر کن کہ فضلۂ  رُز  را 	چوباغباں   ببرد  بیشتر دہد انگور
                                                    (حضرت سعدی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
	مال کی زکوۃ نکال دے کہ باغبان جب انگور کی بیل کی فضول شاخیں  کاٹ دیتا ہے تو انگور کا 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند امام احمد، عبد الرحمن بن عوف الزہری ،۱/۴۱۰، الحدیث:۱۶۷۴