Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
116 - 191
صدقہ برہان ہے
       سرکار دو عالم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: الصَّدَقَۃُ بُرھانٌ۔ (1)(مسلم )
       صدقہ (خیرات) قطعی دلیل ہے۔
       اللہ تعالیٰ کی عبادت و طاعت کی راہ میں   حُبّ مال یعنی مال و دولت کی محبت ایک بھاری پتھر ہے، مال و دولت  کے  کمانے اور اس کو جمع کرنے کی خاطر آدمی نماز روزہ حج اور زکوۃ جیسے بنیادی فراءض کی ادائی گی میں   کوتاہی کرتا ہے اور بعض اوقات سرکش نفس اور شیطان  کے  بہکائے میں   آکر ان فراءض کو ترک کر بیٹھتا ہے، ماں  باپ، بہن بھائی ، رشتہ داروں  ، محلہ والوں  اور عام لوگوں   کے  حقوق ادا نہیں   کرتا، اور فسق و فجور ، بدکاریوں  میں   مبتلا ہو کر اپنی عاقبت بھی تبا ہ کرلیتا ہے۔
       ایک مخلص مومن بہ طیب خاطر اپنی حلال کمائی  میں   سے مرغوب ترین اور بہترین چیز خَالِصَۃً لِوَجْہِ اللہجب اپنے پروردگار کی راہ میں   قربان اور صدقہ (خیرات) کرتا ہے دین اسلام کی سر بلندی  کے  لیے خرچ کرتا اور غرباء و مساکین یتیموں ، بیواؤں  اور دوسرے مستحق افراد کو محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر دیتا اور تقسیم کرتا ہے اور جملہ حقداروں   کے  حقوق ادا کرتا ہے تو وہ اپنے قلب  کے  حب مال سے پاک ہونے کی قطعی او ر واضح دلیل پیش کرتا ہے۔
دین و دنیا ہر دو  کے  آید بدست 	ایں  فضولیہا مکن اے خودپرست
(بوعلی قلندر رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم، کتاب الطہارۃ، باب فضل الوضوء ص۱۴۰، الحدیث: ۲۲۳