میں نہ دن دیکھتا ہے نہ رات ، دوم وہ جسے اللہ تعالیٰ نے دولت کی کثرت عطا فرمائی اور اسے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرتے ہوئے ے نہ دن دیکھتا ہے نہ رات ۔(1) ( مسلم)
واضح رہے کہ حسد دوقسم کا ہے، ایک یہ کہ دوسرے کی نعمت کا زوال چاہنا، یہ مطلقاً حرام ہے، دوم یہ کہ یہ آرزو کرنا کہ اللہ مجھے بھی یہ نعمت عطا کرے، اسے غِبْطَہ (رشک) کہتے ہیں یہ مطلقاً جاءز ہے، اس حدیث میں یہی مراد ہے۔
ابلیس کے دوست اور دشمن
حضرت یحییٰ بن زَکریَّا عَلَیْہِمَاالسَّلَام نے ایک مرتبہ ابلیس کو دیکھا تو اس سے دریافت فرمایا: تو کس شخص کو سب سے زیادہ دشمن سمجھتا ہے اور کس شخص کو سب سے زیادہ دوست رکھتا ہے؟ ابلیس نے جواب دیا: میں زاہد بخیل کو سب سے زیادہ دوست رکھتا ہوں کیونکہ وہ بڑی محنت کے ساتھ اللہ کی عبادت کرتا ہے اور اس کا بخل اس کی تمام عبادت کو ضائع کردیتا ہے اور فاسق سخی کو میں اپنا بڑا دشمن سمجھتا ہوں کہ بڑے مزے کے ساتھ عیش و آرام کی زندگی بسر کرتا ہے لیکن سخاوت سے باز نہیں آتا میں اس کے اس عمل سے ڈرتا رہتاہوں کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس کو توبہ کرنے کی توفیق نہ دے دے اور وہ بخش نہ دیا جائے۔(2)(کیمیائے سعادت)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم،کتاب صلاۃ المسافرین، باب فضل من یقوم بالقران ویعلمہ ، ص۴۰۷، الحدیث: ۸۱۵
2…احیاء العلوم ، کتاب ذم البخل وذم حب المال، ۳/۳۱۶