عرض کی:یارسول اللہ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم) وہ دولت کیا ہے؟ فرمایا: ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ جس نے تمہیں کوئی ٹکڑا کھلایاہویا پانی پلایا ہویا کپڑا دیا ہو اس کا ہاتھ پکڑ کر جنت میں پہنچادے۔(1)(طبرانی)
سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا : (قیامت کے دن)اللہ تعالیٰ فقیر سے اس طرح معذرت کرے گا جیسے آدمی آدمی سے کیا کرتا ہے، فرمایاے گا: میری عزت و جلال کی قسم! میں نے تجھ سے دنیا کو اس لیے نہیں ہٹایا تھا کہ تو میرے نزدیک حقیر تھا بلکہ اس لیے ہٹایا تھا کہ تیرے لیے آج بڑا اعزاز ہے، میرے بندے! ان جہنمی لوگوں کی صفوں میں چلا جا اور جس نے تجھے میری خاطر کھانا کھلایا ہو یا کپڑا دیا ہو وہ تیرا ہے وہ اس حالت میں جہنمی لوگوں میں جائے گا کہ یہ لوگ منہ تک پسینہ میں غرق ہوں گے وہ پہچان کر ان کو جنت میں داخل کرے گا۔(2)(ابن حبان)
ایک مرتبہ سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا : لوگو ! تم اپنے مال سے دوسروں کو فا ئدہ نہیں پہنچاتے؟ تمہیں چاہیے کہ فراخ حوصلہ بنو، کشادہ دلی سے کام لو اور جو دو کرم کے دروازے کھول دو۔
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: حَسد دو اشخاص کے علاوہ کسی پر جاءز نہیں ( مناسب نہیں ) ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی تلاوت عطا فرمائی اور وہ اس کی تلاوت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حلیۃ الاولیاء ،۴۲۰- ابوربیع السائح، ۸/۳۲۹،الحدیث:۱۲۳۸۱ وکشف الخفائ، ۱/۳۱، الحدیث: ۶۸ و احیاء العلوم، کتاب الفقر والزہد، ۴/۲۴۳
2…احیاء العلوم، کتاب الفقر والزہد، ۴/۲۴۳