مسکین کو اپنے دست مبارک سے دیتے تھے۔(دارقطنی)
سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: خرچ کرنے والے اور بخیل کی مثال ایسی ہے کہ دو شخصوں کے بدن پر دو کُرتے لوہے کے ہوں چھاتی سے لے کر گردن تک۔ خرچ کرنے والا جس طرح خرچ کرتا جاتا ہے وہ کُرتا پھیلتا جاتا ہے اور کڑیاں ڈھیلی ہوتی جاتی ہیں یہاں تک کہ وہ کُرتا اسکی انگلیوں تک پہنچ جائے اور بخیل خرچ کرنے میں جس قدر بخل کرتا ہے اتنا ہی اس کے کُرتے کی کڑیاں سکڑتی ہیں اور جہاں کی تہاں گڑ جاتی ہیں ، ہوتے ہوتے جب گلا دبنے لگتا ہے تو اسے پھیلانا چاہتا ہے مگر پھیل نہیں سکتا۔ (1)(بخاری، مسلم)
سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد : ظلم سے بچو کہ ظلم قیامت میں اندھیرا بن جائے گا اور فحش سے بچوکہ اللہ کو فاحش اور مُتَفَحِّش دونوں ناپسند ہیں اور بخل سے بچو کہ اس نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کردیا، بخل نے ان کو جھوٹ پر آمادہ کیا توجھوٹ بولنے لگے، ظلم پر ابھارا تو ظلم کرنے لگے، رشتہ داریوں کے تعلقات توڑنے پر اُبھارا تو انہوں نے رشتہ داروں سے تعلقات منقطع کرددیئے ے۔(2)(مسلم، حاکم)
نیز فرمایا: سخی گنہگار اللہ تعالیٰ کے نزدیک بخیل عابد سے اچھا ہے۔(3) (ترمذی)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الزکاۃ، باب مثل المتصدق والبخیل، ۱/۴۸۶، الحدیث: ۱۴۴۳
2…مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب تحریم الظلم، ص۱۳۹۴، الحدیث: ۲۵۷۸ والمستدرک للحاکم، کتاب الایمان، ۱/۱۵۹، الحدیث: ۲۶و السنن الکبری للنسائی، کتاب التفسیر، ۶/۴۸۶، الحدیث: ۱۱۵۸۳
3…ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ماجاء فی البخیل، ۳/۳۸۷، الحدیث: ۱۹۶۸