غِنًی وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُوْل۔(1)(بخاری)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد : بہتر صدقہ وہ ہے جووسعت (قلب) سے ہو اور تیرے عیال سے جس کا نفقہ تجھ پر واجب ہے ان سے شروع کر، یعنی اول خویش بعدہ درویش۔
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: ہر مسلمان پر صدقہ (خیرات کرنا) لازم ہے، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: اے اللہ کے نبی ! جس کے پاس صدقہ (خیرات) کرنے کے لیے کچھ بھی نہ ہو (تو وہ کیا کرے)، تو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا: اپنے ہاتھ سے محنت مزدوری کرے پھر خود کو نفع پہنچائے اور صدقہ کرے، صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: اگر وہ یہ نہ کرس کے (یعنی وہ محنت مزدوری کے قابل نہ ہو تو!) فرمایا: تو وہ حاجت مند مظلوم عاجز کی مدد کرے،صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: اگر وہ یہ نہ کرس کے (یعنی اس میں یہ طاقت نہ ہو تو!)فرمایا: تو اسے چاہیے کہ نیک کام کرتا رہے اور برائی سے باز رہے تو بلاشبہ اس کا اس طرح کرتے رہنا ہی اس کے لیے صدقہ کے حکم میں ہے۔(2) (بخاری)
حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں ـ: میں نے عرض کی یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّممیں اپنی توبہ قبول ہونے کے شکرانہ میں اپنے مال کو اللہ کی طرف اور اس کے رسول کی طرف صدقہ کر کے اس سے علیٰحدہ (دستبردار) ہوتا ہوں ، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری،کتاب الزکاۃ، باب لا صدقۃ الا عن ظہر غنی، ۱/۴۸۱، الحدیث: ۱۴۲۶
2…بخاری،کتاب الزکاۃ ، باب علی کل مسلم ۔۔۔الخ ،۱/۴۸۶، الحدیث: ۱۴۴۵