خیرا ت کرتا ہے تو قبول نہیں کیا جاتا، حرام مال سے خرچ کرتا ہے تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں ڈالی جاتی اور حرام مال (مرنے کے بعد) اپنے پیچھے چھوڑتا ہے تو وہ حرام مال اس کے لیے جہنم کے لیے زادِ راہ بنتا ہے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بُری چیز کو بری چیز سے نہیں مٹاتا بلکہ بُری چیز کو اچھی چیز سے مِٹاتا ہے، بلاشبہ گندگی کو گندگی نہیں مٹاتی۔(1) (رواہ احمد ، مشکوۃ)
قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَا تُصَاحِبْ إِلاَّ مُؤْمِنًا وَّلَا یَأْکُلْ طَعَامَکَ إِلاَّ تَقِیٌّ. (2) (ترمذی)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: مومن کے سوا کسی سے مصاحبت (دوستی) نہ کر اور تیرا طعام سوائے پرہیزگار شخص (متقی) کے کوئی دوسرا نہ کھائے۔
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشا د: جہنم کی آگ سے بچو اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑا ( کے خیرات کرنے) سے ہی ہو اور اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات کہہ کر بچو۔ (3) (بخاری، مسلم)
قَالَ رَسُوْلُ اللہِصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:خَیْرُ الصَّدَقَۃِ مَا کَانَ عَنْ ظَہْرِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسند امام احمد ، ۲/۳۳، الحدیث: ۳۶۷۲ و مشکاۃ،کتاب البیوع، باب الکسب وطلب الحلال، ۱/۵۱۵، الحدیث: ۲۷۷۱
2…ترمذی،کتاب الزہد، باب ما جاء فی صحبۃ المومن،۴/۱۷۷، الحدیث: ۲۴۰۳
3…بخاری، کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ قبل الرد، ۱/۴۷۶، الحدیث: ۱۴۱۳و۳۵۹۵ و مسلم، کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ، ص۵۰۷، الحدیث: ۱۰۱۶