کَالْمُجَاھِدِ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ۔(1)(بخاری، مسلم)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَکا ارشاد: بیوہ عورتوں اور حاجت مندوں کی مدد کے لیے دوڑ دھوپ کرنے والا اجرو ثواب میں مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے۔
قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ الَّذِیْ تَرُدُّہُ اللُّقْمَۃُ وَاللُّقْمَتَانِ وَالتَّمْرَۃُ وَالتَّمْرَتَانِ وَلٰـکِنِ الْمِسْکِینُ الَّذِیْ لَا یَجِدُ غِنًی یُغْنِیْہِ وَلَا یُفْطَنُ بِہٖ فَیُتَصَدَّقُ عَلَیْہِ وَلاَ یَقُومُ فَیَسْأَلُ النَّاسَ۔ (2)(بخاری ،مسلم)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: مسکین وہ نہیں جس کو ایک لقمہ یا دو لقمے یا ایک یادو کھجوریں (دوسرے دروازے پر) لوٹا دیں بلکہ مسکین وہ ہے جس کے پاس ضروریات پوری کرنے کے لیے پیسے بھی نہیں اور نہ اس کی ظاہر حالت ایسی ہے کہ آسانی سے کسی کو اس کی حاجت مندی معلوم ہوجائے اور اس کی مدد کردی جائے اور نہ وہ چل پھر کر لوگوں سے مانگتا پھرتا ہے۔ (یعنی پیشہ ور بھکاریوں کو صدقہ خیرات دینا باعث اجرو ثواب نہیں بلکہ گناہ ہے۔)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: بندہ حرام مال کماکر اس میں سے صدقہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب النفقات، باب فضل النفقۃ علی الاہل، ۳/۵۱۱، الحدیث: ۵۳۵۳ و مسلم ، کتاب الزہد والرقائق، باب الاحسان الی الارملہ، ص۱۵۹۲، الحدیث: ۲۹۸۲
2…بخاری، کتاب الزکاۃ، ۱/۴۹۸، الحدیث: ۱۴۷۶،۱۴۷۹ ومسلم، کتاب الزکاۃ، باب المسکین الذی لا یجد غنی، ص۵۱۷، الحدیث: ۱۰۳۹