اللہصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمیہ کیسے ہوس کے گا؟ فرمایا: یاتو یہ رَوِش اختیار کرنی ہوگی یا جہنم کا ایندھن بننا پڑے گا۔(1)(طبرانی فی الکبیر، ابن حبان، حاکم)
حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا ارشاد: جو چاہو کھاؤ جو چاہو پہنو بشرطیکہ اسراف (فضول خرچی) اور اِتراہٹ (فخر و تکبر) ان دونوں سے بچے رہو۔ (2)(بخاری)
قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِنَّ اللہَ جَوَادٌ یُحِبُّ الْجُوْدَ وَیُحِبُّ مَکَارِمَ الْاَخْلَاقِ وَیَکْرَہُ سَفْسَافَھَا۔ (3)(طبرانی درکبیر و اوسط ، حاکم ، بیہقی)
رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد ہے: بلا شبہ اللہ تعالیٰ جواد (4)ہے، سخاوت
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبیر للطبرانی، ۱/۳۴۱، الحدیث: ۱۰۲۱ و المستدرک للحاکم، کتاب الرقاق، ۵/۴۵۰، الحدیث: ۷۹۵۷
2…بخاری، کتاب اللباس، باب قول اللّٰہ تعالی: قل من حرم زینۃ اللّٰہ۔۔۔الخ، ۴/۴۵
3…المعجم الکبیر للطبرانی، ۶/۱۸۱، الحدیث: ۵۹۲۸ و شعب الایمان ، باب فی الجود والسخاء ، ۷/۴۲۶، الحدیث: ۱۰۸۴۰
4…یہاں لکھا تھا کہ بلاشبہ اللّٰہ تعالیٰ بے حد سخی ہے، جبکہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو سخی کہنے کے بارے میں امیر اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنی کتاب ’’ کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب ‘‘ صفحہ۱۳۰ پرفرماتے ہیں: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکو سخی نہیں جواد کہنا چاہئے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت، مولانا شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنفتاوی رضویہ ،۲۷/۱۶۵میں فرماتے ہیں:اسمائے اِلٰہِیّہ تَوقِیْفِیَہ (یعنی قرآن وحدیث کی طرف سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ٹھہرائے ہوئے نام )ہیں، یہاں تک کہ اللّٰہ جَلَّ جَلَالُہ کا جواد ہونا اپنا ایمان مگر اُسے سخی نہیں کہہ سکتے کہ شَرْع (شَر۔ع) میں وارِد نہیں۔ مُفَسّرِشہیرحکیم الامت حضر تِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:مُحاوَرَہ عَرَب