Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
104 - 191
کو پسند فرماتا ہے اور عمدہ اخلاق کو پسند فرماتا ہے اور گھٹیا اور نکمے اخلاق کو بُرا جانتا ہے۔
	قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:طَعَامُ الْاِثْنَیْنِ کَافٍ لِلثَّلا ثَۃِ وَطَعَامُ الثَّلاثَۃِ کَافٍ لِلْاَرْبَعَۃِ۔ (1)(موطا امام محمد)
	رسول اللہ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد : دو آدمیوں  کاکھانا تین آدمیوں   کے  لیے کافی ہوتا ہے اور تین آدمیوں  کا کھانا چار آدمیوں   کے  لیے کافی ہوتا ہے۔
	عَنْ أبِیْ ھُرَیْرَۃَ أَنَّہٗ کَانَ یَقُوْلُ:بِءسَ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِیْمَۃِ یُدْعٰی لَھَا الْاَغْنِیَآء وَیُتْرَکُ الْمَسَاکِیْنُ، مَنْ لَمْ یَاْتِ الدَّعْوَتَ فَقَدْ عَصَی اللہَ وَ رَسُوْلَہٗ۔(2)   (مؤطا امام محمد)
	حضر ت ابوہریرہ  رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے تھے:بدترین طعام ولیمے کا وہ طعام ہے جس  کے  لیے امیروں  کو دعوت دی جائے اور مساکین کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت قبول نہ کرے اس نے اللہ اور اس  کے  رسول کی نافرمانی کی۔
	قَالَ رَسَوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: قَالَ اللہُ تَعَالیٰ: أَنْفِقْ یَا ابْنَ آدَمَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
میں عُمُوماً سخی اُسے کہتے ہیں جو خود بھی کھائے اوروں کو بھی کھلائے ۔ جواد وہ جو خود نہ کھائے اوروں کو کھلائے۔ اِسی لیے اللّٰہ تعالیٰ کو سخی نہیں کہا جاتا ہے۔ سخی کے مقابِل بخیل ہے (اور بخیل وہ ہے) جو خودکھائے اوروں کو نہ کھلائے ۔جواد کا مقابِل مُمسِک ہے (اورمُمسِک وہ ہے)جو نہ کھائے نہ کھانے دے۔ اللّٰہتعالیٰ کی تمام دُنیوی اخروی نعمتیں دُنیا کے لیے ہیں اُس (کی اپنی ذات) کے لئے نہیں۔ (مرآۃ المناجیح،۱/۲۲۱) لہٰذا ہم نے یہاں سخی کے بجائے جواد لکھا ہے۔ علمیہ
1…موطا امام مالک، باب السیر، باب فضل اجابۃ الدعوۃ ، ص۳۱۷، الحدیث: ۸۹۰
2…موطا امام مالک، باب السیر، باب فضل اجابۃ الدعوۃ، ص۳۱۶، الحدیث: ۸۸۷