Brailvi Books

سرما یۂ آخِرت
102 - 191
 عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یارسول اللہ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم جسے کچھ میسر ہی نہ ہووہ کیا کرے؟ فرمایا: اپنے ہاتھوں  سے کام کرے او ر پھر خود کو بھی  فا ئدہ     پہنچائے اور صدقہ بھی کرے، صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یا رسول اللہ  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اگر اس پر بھی اسے کچھ نہ ملے؟ فرمایا : کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرے، عرض کی گئ : اگر اس سے یہ بھی نہ بن پڑے؟ فرمایا: ایسی صورت میں   اسے چاہیے کہ خود اپنا طرزِ عمل ٹھیک رکھے او ربرائی  سے بچتا رہے کہ یہی اس  کے  حق میں   صدقہ قرار پائے گا۔(1) 
 (بخاری ، مسلم)
	سرکارِ دوعالم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: اے ابن آدم ! تیرے لیے ضرورت سے زاءد مال کا خرچ کردینا بہتر ہے اور اسے رو کے  رکھنا بُرے نتاءج کا حامل ہے۔ (2)      (مسلم ، ترمذی)  
	سرکارِ دوعالم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: حضرت بلال رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں    کہ حضور  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: جو رزق تجھے عطا کیا گیا ہے اسے چھپا کر نہ رکھ اور جو کچھ تجھ سے مانگا جائے اس میں   بُخل سے کام نہ لے، میں   نے عرض کی: یارسول
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الادب، باب کل معروف صدقۃ، ۴/۱۰۵، الحدیث: ۶۰۲۲ و مسلم، کتاب الزکاۃ، باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من المعروف، ص۵۰۴، الحدیث: ۱۰۰۸
2…مسلم، کتاب الزکاۃ، باب بیان ان الید العلیا خیر من الید السفلی، ص۵۱۶، الحدیث: ۱۰۳۶وترمذی، کتاب الزہد، ۴/۱۵۳، الحدیث: ۲۳۵۰