عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم جسے کچھ میسر ہی نہ ہووہ کیا کرے؟ فرمایا: اپنے ہاتھوں سے کام کرے او ر پھر خود کو بھی فا ئدہ پہنچائے اور صدقہ بھی کرے، صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی: یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اگر اس پر بھی اسے کچھ نہ ملے؟ فرمایا : کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرے، عرض کی گئ : اگر اس سے یہ بھی نہ بن پڑے؟ فرمایا: ایسی صورت میں اسے چاہیے کہ خود اپنا طرزِ عمل ٹھیک رکھے او ربرائی سے بچتا رہے کہ یہی اس کے حق میں صدقہ قرار پائے گا۔(1)
(بخاری ، مسلم)
سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: اے ابن آدم ! تیرے لیے ضرورت سے زاءد مال کا خرچ کردینا بہتر ہے اور اسے رو کے رکھنا بُرے نتاءج کا حامل ہے۔ (2) (مسلم ، ترمذی)
سرکارِ دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا ارشاد: حضرت بلال رَضِیَ اللہُ عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے فرمایا: جو رزق تجھے عطا کیا گیا ہے اسے چھپا کر نہ رکھ اور جو کچھ تجھ سے مانگا جائے اس میں بُخل سے کام نہ لے، میں نے عرض کی: یارسول
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…بخاری، کتاب الادب، باب کل معروف صدقۃ، ۴/۱۰۵، الحدیث: ۶۰۲۲ و مسلم، کتاب الزکاۃ، باب بیان ان اسم الصدقۃ یقع علی کل نوع من المعروف، ص۵۰۴، الحدیث: ۱۰۰۸
2…مسلم، کتاب الزکاۃ، باب بیان ان الید العلیا خیر من الید السفلی، ص۵۱۶، الحدیث: ۱۰۳۶وترمذی، کتاب الزہد، ۴/۱۵۳، الحدیث: ۲۳۵۰