سرکار دوعالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمایاے گا: اے ابن آدم! میں بیمار پڑا تو تو میری عیادت کو نہ آیا، ابن آدم جواب دے گا: پروردگار ! میں تیری عیادت کیسے کرتا جب کہ تو سارے جہانوں کا رب ہے، اللہ فرمایاے گا: کیا تجھے معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار پڑا اور تو اس کی عیادت کو نہ گیا اگر تو اس کی عیادت کو گیا ہوتا تو مجھے اس کے پاس پاتا، اے ابن آدم ! میں نے تجھے کھانا کھلانے کو کہا تو تو نے مجھے کھانا بھی نہ کھلایا، وہ کہے گا: اے رب ! میں تجھے کھانا کس طرح کھلاتا جب کہ تو خود ہی سارے جہانوں کا پالنے والا ہے، اللہ فرمایاے گا: کیا تجھے نہیں معلوم کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانے کو مانگا تو تو نے اسے کھانا نہیں کھلایا اگر تو نے اسے کھانا کھلادیا ہوتا تو اس (کھانے) کو میرے پاس پالیتا، اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی پلانے کو کہا تو تو نے مجھے پانی نہ پلایا، وہ کہے گا: پروردگار ! میں تجھے کیسے پانی پلاتا جب کہ تو سارے جہانوں کا رب ہے، اللہ فرمایاے گا: میرے فلاں بندے نے تجھ سے پانی پلانے کی درخواست کی تھی تو تُو نے اسے پانی نہیں پلایا تھا اگر تو نے اسے پلادیا ہوتا تو اس (پانی) کو میرے پاس پالیتا۔(1)(مسلم)
سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کا ارشاد: ہر مسلمان پر صدقہ کرنا لازم ہے، صحابہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
کو کھانا نہ دیتے تھے اور بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ فکریں کرتے تھے اور ہم انصاف کے دن کو جھٹلاتے رہے یہاں تک کہ ہمیں موت آئی۔(پ ۲۹،المدثر:۳۸۔۴۷)
1…مسلم ، کتاب البر والصلۃ والآداب ، باب فضل عیادۃ المریض ، ص۳۸۹ ، الحدیث : ۲۵۶۹