Brailvi Books

صَحابیات اور عِشْقِ رَسول
48 - 62
دیکھ کر اِرشَاد فرمایا:اے اَسْماء!اِنہیں اُتار کر پھینک دو! کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ (اگر تم نے ان کی زکوٰۃ اَدا نہ کی تو بَروزِ قِیامَت) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے گا۔ (فرماتی ہیں )میں نے فوراً کنگن اُتار کر پھینک دیئے اور مَعْلُوم نہیں انہیں کِس نے اُٹھایا؟1
چادریں پھاڑ کر دوپٹے بنا لیے
سُبْحٰنَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ !پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!بلاشبہ حکْمِ سرکار پر سرِ تسلیم خم کرنے کی یہ ایک اَعلیٰ مِثال ہے کہ اللہعَزَّ  وَجَلَّ  کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دَہْنِ مُبارَک سے حکْم  اِرشَاد ہوتے ہی حضرت سَیِّدَتُنا اَسماء بنت یزید اَنصاریہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے کنگن اُتار کر پھینک دئیے اور پھر پَلَٹ کر یہ بھی نہ دیکھا کہ انہیں کس نے اُٹھایا ہے۔ یہ صِرف آپ ہی نہیں تھیں کہ جنہوں نے ایسا کیا بلکہ صحابیات طیبات رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی حیاتِ طیبہ میں ایسی مِثالیں بَہُت زیادہ ہیں کہ انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کے بَرعکس حکْمِ سرکار پر بغیر کسی لیت ولَعْل (ٹال مٹول، عُذْر، بہانے) کے فوراً عَمَل کر کے دِکھایا۔جیسا کہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے مَرْوِی ہے کہ جب پردے کا حکْم نازِل ہوا تو صحابیات طیبات نے اپنی چادروں اور تہہ بندوں کو پھاڑ کر دوپٹے بنا لیے۔2
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……مسند احمد، مسند القبائل، اسماء ابنة یزید، ۱۱/۳۲۶، حدیث:۲۸۳۳۰
…… ابو داود، کتاب اللباس، باب فی قوله تعالی يدنين ... الخ ،ص ۶۴۵، حدیث: ۴۱۰۰ ملخصًا